بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کے قریب ایرانی ڈرون حملے کے بعد آرامکو نے وہاں اپنی کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
یہ سعودی عرب میں موجود سب سے بڑی ریفائنری ہے اور یومیہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل پراسیس کر سکتی ہے۔
بلومبرگ نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج فارس میں واقع پلانٹ پیر کی صبح بند کیا گیا اور آرامکو کی جانب سے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مقام پر آگ کو قابو کر لیا گیا ہے۔
ادھر روئٹرز کے مطابق آرامکو نے اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا تاہم شعبے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو حفاظتی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پیر کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
2019 میں بھی ایران نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
Leave a Reply