کوئٹہ : بلوچستان بار کونسل چیئر مین آصف بلوچ ایڈووکیٹ کی جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتی ہے یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کے منافی بھی ہے جبری گمشدگیاں کسی مہذب معاشرے میں ہر گز قابل قبول نہیں
بلوچستان بار کو نسل گزشتہ ماہ حمل حسنی ایڈووکیٹ کے پنجگور میں ماورائے عدالت قتل اور اس پر کوئی ایکشن نہ لینے پر تشویش کا اظہار کرتی ہے ایک وکیل کا اس طرح قتل نہایت افسوسناک ہے اور یہ صوبے بھر میں وکلا کے تحفظ اور آزادی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے بلوچستان بار کونسل واضح کرتی ہے کہ ایسے تمام اقدامات چاہے جبری گمشدگیاں ہوں یا ماورائے عدالت قتل نا قابل قبول ہیں
ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق شفاف اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ان سنگین حالات کے پیش نظر بلوچستان بار کونسل صوبہ بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کی ایک مشتر کہ کا نفر نس ماہ اپریل میں بلانے کا اعلان کرتی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا مزید برآں، بلوچستان بار کو نسل صوبہ بھر میں 25.03.2026 کو مکمل ہڑتال کا اعلان کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ چیئرمین آصف بلوچ کو فوری بازیاب کیا جائے بلوچستان بار کو نسل قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وکلا برادری کے وقار و سلامتی کے لیے اپنی جد وجہد جاری رکھے گی۔