|

وقتِ اشاعت :   March 29 – 2026

خضدار :  پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری اور حلقہ این اے 256 سے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ تیس سال سے عوام جن پارٹیوں کے ہاتھوں دھوکہ کھا رہی ہے اب موقع ہے کہ وہ تیس سالہ نا انصافیوں کا ازالہ کر کے پیپلز پارٹی کو حق نمائندگی دیں،

قوم پرستی کا نعرہ ہو یا کہ مذہب کے نام پر سیاست دونوں عوامی خدمت میں نا کام ہو چکے ہیں عوام ہمیں موقع دیں ہم ضلع خضدار کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرینگے،خوشحال بلوچستان اور مستحکم پاکستان ہماری انتخابی منشور کا اہم حصہ ہے،پانچ اپریل کو دو نظریات کے درمیان مقابلہ ہے عوام حق کا ساتھ دیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے خلق جھالاوان خضدار میں منعقدہ ایک انتخابی جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا جلسہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں میر عبدالرحمن زہری،رفیق سجاد،حاجی صلاح الدین زہری،میر جمعہ خان شکرانی،حاجی عید محمد ایڈووکیٹ،میر ندیم الرحمن محمد شہی،میر شہباز خان قلندرانی،میر علی اکبر گرگناڑی،وڈیرہ مولا بخش جاموٹ،میر عبدالقیوم ساسولی،با بو الہی بخش زہری،حاجی منیر احمد قمبرانی،عبداللہ آزاد،میر عبدالحمید غلامانی سمیت دیگر نے خطاب کیا تلاوت کلام پاک کی سعادت مفتی ہدایت اللہ زہری نے حاصل کی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر محمد اسماعیل زہری اور الفت حسنی نے انجام دئے اس موقع پرصوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ بابا امیر حمزہ خان زہری، سردار نصر اللہ خان ساسولی،سردار نصیر احمد خدرانی،سردار مراد خان شیخ،حاجی میر محمد اقبال مینگل،میر نواب خان ساسولی،میر ظفر اللہ ساسولی،میر زاکر علی باجوئی،ٹکری رضا محمد شاہوانی،میر سعید احمد زرکزئی،عبئد اللہ قمبرانی،حاجی محمد یاسین جتک,،نصر اللہ شاہوانی سمیت دیگر بھی موجود تھے، انتخابی جلسہ میں خضدار،باغبانہ،نال،وڈھ،کرخ،مولہ،زہری،باغبانہ اور دیگر علاقوں نے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی

جلسہ عام سے نواب ثناء اللہ خان زہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نامزد امیدوار میر شفیق الرحمن مینگل ہے میر شفیق الرحمن مینگل کی علاقے کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار رہا ہے عوامی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود انہوں نے وڈھ میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے ہیں نواب ثناء اللہ خان زہری کا کہنا تھا کہ تیس سال سے خضدار کی قومی اسمبلی سے بی این پی یا جمعیت علماء اسلام کے نا مزد امیدوار منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں مگر تیس سال میں ان کی علاقے میں ایک نشانی بھی نہیں اب عوام کو چائیے کہ وہ مزید ان جماعتوں کے خوشنماء نعروں کے دھوکے میں نہ آ جائیں پیپلز پارٹی کو حق نمائندگی دیں پیپلز پارٹی ضلع خضدار خصوصاً وڈھ سے پسماندگی نا خواندگی کا خاتمہ کرے گی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی ڈسپلین ہر ورکر پر فرض ہے 2024 ء کے انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کے لئے صدر زرداری نے میرا نام دیا تھا بعد میں کچھ معاملات آئے سرفراز بگٹی کو وزارت اعلیٰ دی گئی تو میں پارٹی ڈسپلن کے تحت اس فیصلہ کو قبول کیا ہم جس پارٹی میں جاتے ہیں آخری دم تک اس کے ساتھ رہتے ہیں نواز شریف اور اس کی بیٹی مریم نواز نے میرے ساتھ نا انصافی کی وگرنہ میں آج بھی مسلم لیگ کا حصہ ہوتا نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ میر شفیق الرحمن مینگل کی جیت میرے عزت کا مسئلہ ہے

عوام الناس سے میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ 5 اپریل کو میر شفیق الرحمن کو ووٹ دیں میں ضمانت دیتا ہوں کہ وہ پورے ضلع میں انقلابی تبدیلی لاکر یہاں کے لوگوں کی حالت زندگی تبدیل کریں گی وزارت اعلیٰ میں مجھے موقع ملا میں نے خضدار کو یونیورسٹیاں دی،میڈیکل کالج دیا،بے روزگاروں کو ملازمتیں دے کر با روزگار بنایا مجھے امید ہے کہ عوام مجھے مایوس نہیں کرے گی جلسہ عام سے حلقہ این اے 256 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامز امیدوار میر شفیق الرحمن مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور پاکستان کا استحکام ہماری منشور کا بنیادی حصہ ہے اگر عوام نے مجھے خدمت کا موقع دیا تو میں تعلیمی اداروں کی جال بچاونگا موجودہ تعلیمی اداروں کی معیار کو مستحکم کرونگا،شہر اور دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرونگا،شہر کو گیس پلانٹ فراہم کروونگا اور پورے ضلع کو موصلاتی نظام سے منسلک کر کے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرونگا

امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا کر خضدار کو مثالی ضلع بنانے کے علاوہ انٹر نیٹ کی سہولت بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کرونگا انہوں نے کہا کہ حلقہ این اے 256 کے انتخابات میں دو نظریات کے درمیان مقابلہ ہو گا ایک وہ ہے جو گفتار کے غازی ہیں،دروغ گوئی ان کا شیوہ ہے،انڈین میڈ ہے دوسری جانب شہداء کی وارثوں کی جماعت ہے مجھے یقین ہے کہ عوام اس دفعہ انڈین میڈ جماعت و اس کے اتحادی کو مسترد کر کے ضلع خضدار میں تعمیر و ترقی کی بنیاد رکھیں گے انہوں نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری ایک نواب ہے اور ایک سردار وڈھ میں بیٹھا ہوا ہے دونوں وزارت اعلیٰ کے منصب پر مختلف اوقات میں فائز رہے ہیں مگر وڈھ اور زہری میں تعلیمی اداروں کی صورتحال،تعمیر و ترقی کی صورتحال واضح مختلف ہیں وڈھ کے علاقے چیخ چیخ کر اپنی پسماندگی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ زہری کرخ و مولہ ہمارے سامنے ہیں کہ وہاں نواب ثناء اللہ خان زہری کی بدولت کتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں زہری میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ایک چین بنی ہے اگر نواب ثناء اللہ زہری ترقی پسند سردار نہیں ہوتا تو وڈھ کی طرح زہری میں بھی تعلیمی ادارے نہیں کھولے جا سکتے تھے

بی این پی اور جمعیت نے علاقے کو بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہندوستان نواز پارٹی کے سربراہ کی قومی اسمبلی سے استعفیٰ بھی ایک ڈرامہ و عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کا عمل تھا مگر اللہ کا شکر ہے قومی اسمبلی کے اسپیکر نے محسوس کیا کہ خضدار کی نمائندگی نہ ہو رہی اس لئے انہوں نے استعفیٰ کے ڈرامے کو فلاپ کرتے ہوئے استعفیٰ کو منظور کر لیا ایک جانب اسمبلی سے استعفیٰ دینا دوسری جانب دوبارہ اسمبلی کا حصہ بنانا حصہ بننے کی عمل میں حصہ دار ہونا قوم اور فعل کی تضاد کو واضح کرتی ہے عوام یاد رکھیں کہ یہ دونوں پارٹیاں عوام کو قوم پرستی و مذہب کے خوشنماء نعروں کے زریعے دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ہم انشاء اللہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کی قیادت میں عوام کو ان دھوکہ بازوں کے رحم و کرم نہیں چھوڑیں گے عوام کی طاقت سے انہیں شکست فاش دینگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *