خضدار: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء و حلقہ این اے256 سے پارٹی کے امیدوار میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 256 پر مقابلہ امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ دو نظر یات کے درمیان ہے
ایک نظریہ ہندوستان کے حمایت یافتہ گروہ کی ہے دوسری نظریہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والی ریاست پاکستان سے محبت کرنے والوں کی ہے،مخالفین یاد رکھیں ہمارے درمیان مقابلہ کا یہ تسلسل جب تک جاری رہے اور جاری رہے گی ہم حسب روایت جانیں دینگے مگر مقابلہ سے دستبردار نہیں ہونگے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وڈھ باڈری میں منعقدہ انتخابی جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا جلسہ سے سردار زادہ میر نعمت اللہ تمرانی بزنجو،میر مطیع الرحمن مینگل،رفیق سجاد،میر شہباز خان قلندرانی،میر علم خان تمرانی بزنجو،ڈاکٹر محمد اسماعیل زہری،میر ندیم الرحمن محمد شہی عبدالقادر گزگی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض الفت محمد حسنی اور مجیب الرحمن پندرانی میر شہباز خان قلندرانی نے انجام دیئے جلسہ عام میں خضدار، نال، وڈھ، اورناچ، گریشہ، لوپ سمیت دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کئے
جلسہ عام سے میر شفیق الرحمن مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنے کی بنیادی وجوہات ہیں پیپلز پارٹی کے بانی شہید زولفقار علی بھٹو نے پھانسی کو قبول کیا مگر معافی نہیں مانگا،محترمہ بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی مگر جلاوطنی کو قبول نہیں کیا اسی طرح میرے بھائی میر عطاء الرحمن مینگل اور میرے دیگر قریبی ساتھ شہادت کو قبول کیا مگر ہندوستان کے ایجنٹوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرتا رہا اس طرح پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے اور ہم بھی شہداء کے کاروا ن کے سپاہی ہیں پیپلز پارٹی اور ہمارے درمیان یہی مماثلت تھی
اس لئے ہم نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے بھی اپنے نوجوان بچوں کی قربانی دی ہے ان کا تعلق بھی شہیدوں کی جماعت سے ہیں ہم سب ملکر اپنے ملک اور وطن کی دفاع کے لئے میدان میں اترے ہیں اور یہ الیکشن کا میدان بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں میر شفیق الرحمن مینگل کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے مخالفین ہمیشہ دھاندلی اور غیر جمہوری طریقوں سے عوام کی حق رائے تبدیل کرتے رہے ہیں
جمعیت علماء اسلام اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کی بات کرتی ہے مگر افسوس جمعیت کے قائدین اتحاد کرتے ہیں تو ہندوستان کے مبینہ ایجنٹوں سے ٹکٹ دیتے ہیں ایسے لوگوں کو جو سمگلر ہوتے ہیں
جمعیت کی قول و فعل میں اتنی بڑی تضاد ہے جس کا کوئی انداز ہ نہیں لگا سکتا میر شفیق الرحمن مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں عوام کو سامنے اپنے اباواجداد کی تاریخ رکھتا ہوں کہ قیام پاکستان میں ہمارے اباو اجداد کی جدوجہد و خون بھی شامل ہیں پاکستان ریاست مدینہ کے بعد پہلا ریاست ہے جو کلمہ طیبہ کے نام سے معروض وجود میں آیا طاغوتی قوتوں نے ابتداء سے ہی اس ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے ہیں ہمارے مخالفین کا تعلق بھی انہی سازشی عناصر سے ہیں اس لئے میں اپنے مخالفین کو کہتا ھوں کہ اسلام کے نام پر بننے والی ملک ہندو ایجنٹوں کے ہاتھوں کبھی شکست نہیں کھا سکتی
میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا کہ ہم استحکام پاکستان اور خوشحال بلوچستان کے ایجنڈوں کو عملی جامعہ پہنانے کی خاطر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں خضدار کے لئے میری انتخابی منشور واضح ہے پورے ضلع میں تعلیمی اداروں کا جال بچھائیں گے
موجودہ تعلیمی اداروں کے معیار کو مستحکم بنائیں گے عوام کے لئے صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے زراعت کے حوالے سے لوگوں کو درپیش مسائل ترجحی بنیادوں پر حل کرینگے اور مواصلاتی نظام کو بہتر بنائیں گے سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں کے عوام کو نہام نہاد ترقی مخالف سردار کی غلامی سے نجات دلائیں گے
انہوں نے سردار اختر جان مینگل کے اسمبلی سے استعفیٰ کو سیاسی ڈرامہ اور ہمدردی حاصل کرنے کا ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل کا یہ ڈرامہ فلاپ ہو گیا ایک جانب اسمبلی میں مستعفی ہونے کا ڈرامہ اور دوسری جانب اسمبلی میں جانے کے لئے جمعیت علماء اسلام کو کندھا دینا یہ سب ڈرامے اب اپنی منتقی انجام کو پہنچ چکے ہیں آنے والا دور ہمارا ہو ا الیکن میں عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں ہمیں کامیاب کریں یہ کامیابی ہماری نہیں بلکہ عوام کی ہو گی
Leave a Reply