خضدار : جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سرپرست اعلیٰ و امیدوار حلقہ این اے256 مولانا قمر الدین،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری،جنرل سیکرٹری مولانا عنایت اللہ رودینی،سردار علی محمد قلندرانی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے تحصیل صدر میر سفر خان مینگل نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ این اے256 پر ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا حکومت حکمران جماعت کے پسندیدہ امیدوار کی شکست کو دیکھ کر الیکشن ملتوی کر دی ہے
جمعیت اور بی این پی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے ہم نے مکمل تیاری کی تھی پولینگ اسٹیشنوں کے حوالے سے ہم نے اپنے ایجنٹوں کو فائنل کیا تھا عوامی رابطہ مہم بھی آخری مرحلے میں داخل ہو گیا تھا ایسے صورت میں انتخابات ملتوی کرنا حکومتی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہیں
انہوں نے کہا کہ حکومت جس طرح اپنی پسندیدہ امیدوار کو اسلام آباد بلوایا ان کی شمولیت کروائی گئی اور بعد میں پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ایسا ہی انہیں این ایم اے بھی بنوانا چاہتا تھا
مگر جمعیت علماء اسلام اور بی این پی مینگل و مینگل قبائل کے انتخابی اتحاد اور اس اتحاد کی کامیابی کو دیکھ کر حکومت گھبرا گئی اور الیکشن ملتوی کروادی بی این پی اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماوں کا کہنا تھا کہ اس نشست پر ہمیشہ ہماری اتحاد کامیاب ہوتی چلی آ رہی ہے گزشتہ انتخابات میں بھی ہم نے 65 ہزار سے زاہد ووٹ حاصل کئے اب بھی ہماری جیت یقینی تھی
حکمران یا رکھیں کہ ہماری یہ اتحاد انتخابات کے لئے قائم و دائم ہیں انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت امن و امان کے مسئلے کو جواز بنا کر انتخابات کو ملتوی کروادی اور حقیقت میں اپنی ناکامی کو بھی ثابت کر دیا کہ بلوچستان حکومت یہاں بلوچستان میں امن و امان کو قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اس کے ساتھ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج امن و امان کے مسئلے کو جواز بنایا گیا
اس بات کی کیا ثبوت ہے کہ کل یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گی اور انتخابات ہونگے حکومت اپنی ناکامی تسلیم کرے جس طرح انتخابات ملتوی کروادی گئی اسی طرح وزارت اعلیٰ سے بھی حکومت سے بھی مستعفی ہو جائیں جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور پانچ اپریل کی مقررہ تاریخ پر حلقہ این اے 256 پر امتخابات کروائیں اس حوالے سے جماعت کی مرکزی قیادت جو فیصلہ کرے گی
ہم اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے آئندہ کا لائحہ اختیار کرینگے اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے مفتی عبدالقادر شاہوانی،بی این پی کے علی احمد شاہوانی،بی این پی کے ڈاکٹر محمد بخش مینگل،میر صادق غلامانی جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد اسحاق شاہوانی،قاری نذیر احمد،قاری شفیق الرحمن مینگل،مولانا عبدالوحید رئیسانی،مولانا عبدالصبور مینگل،مولانا بشراحمد عثمانی،مفتی عبدالحکیم شاہوانی و دیگر بھی موجود تھے
Leave a Reply