ایران کا جزیرہ خارگ (Island Kharg ) خلیج فارس میں واقع ایک انتہائی اہم سٹریٹیجک اور اقتصادی مقام ہے، جو ایران کی خام تیل کی برآمدات کے لیے بنیادی بندرگاہ کے طور پر کام کرتا ہے۔
جزیرہ خارگ کی کلیدی اہمیت ہے۔
ایران کا تقریباً 90 فیصد سے زائد خام تیل اسی جزیرے پر بنے ٹرمینلز سے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کے دفاعی نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس کی وجہ سے یہ خلیج فارس میں سمندری راستوں کی نگرانی کے لیے اہم ہے۔
اس جزیرے پر بڑے پیمانے پر تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو ایرانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
خارگ جزیرہ ایران کے لیے اقتصادی لائف لائن اور خطے میں اسٹریٹجک موجودگی کا کلیدی ذریعہ ہے۔
جزیرہ ’خارگ‘ ایران جنگ کے پندرہویں روز یعنی 14 مارچ کی صبح اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے اس جزیرے پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔
اس دھمکی کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی فوج خبردار کرچکی ہے کہ اگر خارگ پر حملہ یا قبضے کی کوشش کی گئی تو امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ملکیت تیل اور توانائی کمپنیوں کو تباہ اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا پہلے بھی رپورٹ کرچکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے منصوبہ بندی میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا فوجیں اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور آیا تھا۔
اب ایک بار پھر اس جزیرے پر امریکہ کی جانب سے قبضے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر فضائی، بحری جہازوں کے ذریعے آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے جس کا مقصد ایرانی معیشت سمیت اس کی دفاعی نظام کو مکمل تباہ کرنا ہے جس کیلئے ہزاروں فوجی بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر بھی مکمل قبضہ کیا جائے ۔
ایرانی ساحل سے 28 کلومیٹر اور آبنائے ہرمز سے سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب پر واقع خارگ جزیرہ ایران کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ جزیرہ ہر سال تقریباً 950 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل سنبھالتا ہے جو ایران کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔
تقریباً 8 کلومیٹر لمبے اور 4 سے 5 کلومیٹر وسیع اس جزیرے کے اردگرد گہرا سمندر موجود ہے جس کی وجہ سے یہاں بڑے سپر ٹینکر آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں اور زیادہ تر ایشیائی ممالک خصوصاً چین، جنوبی کوریا، جاپان تیل لے کر جاتے ہیں۔
بہرحال ایران نے جزیرہ خارگ پر امریکی حملے کے پیش نظر دفاعی حوالے سے جنگی منصوبہ بندی کر رکھی ہے مگر اس جزیرہ پر امریکہ اور اسرائیل نے حملے شروع کئے تو اس کے تباہ کن اثرات پیدا ہونگے، ایران ردعمل میں خلیجی ممالک اور اسرائیل پر بڑی کارروائیاں کرے گا اور یہ جنگ خطے میں شدت کے ساتھ پھیلے گی جس کے نتائج خطے سمیت عالمی معیشت اور امن کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوں گے۔
امریکہ کا ایرانی جزیرہ خارگ پر حملے کی منصوبہ بندی، مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت اور امن کیلئے خوفناک نتائج!
![]()
وقتِ اشاعت : April 1 – 2026
Leave a Reply