خضدار : پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنمائسابق وزیراعلی بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثنائاللہ خان زہری نے کہا کہ زہری میں بدامنی اور دہشت گردوں کی موجودگی کی بناء سیکیورٹی فورسز کو آپریشن کرنا پڑا جس کے نتیجے میں کرفیو نافذ کیا گیا۔
تاہم اب صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور عید کے بعد کے مرحلہ وار کرفیومیں نرمی شروع کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت علاقے کو مکمل طور پر پرامن بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
حالات جوں جوں معمول پر آئیں گے، کرفیو میں مزید نرمی کردی جائے گی جبکہ ہماری کوشش ہیکہ جلد از جلد کرفیو مکمل طور پر اٹھا دیئے جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمیلائی جاسکیں۔اور معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔ انہوں نے زہری کے عوام سے کہاکہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ امن جلد بحال ہو اور کرفیو کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ اور پائیدار امن کا قیام ہے تاکہ لوگ بلاخوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری آنے سے مقامی تجارت، تعلیم اور صحت اور کاشتکاری کے شعبے بھی بہتر طور پر چل سکیں گے۔
جبکہ زہری کی معیشت کا زیادہ انحصار بھی کپاس کے فصلوں پر ہے زہری کی کپاس کا فصل ملکی منڈیوں میں اپنی اعلیٰ معیار کی وجہ سے اہم مقام رکھتا ہے اور اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ کرفیو کے باوجود مقامی کاشتکاروں کی محنت ضائع نہ ہونے دی گئی اور سیکورٹی اداروں کے تعاون سے کپاس کی فصلیں محفوظ طریقے سے منڈیوں تک پہنچائی گئیں۔
اس سلسلے میں سینکڑوں مزدا گاڑیاں کپاس سے لوڈ ہو کر روانہ کی گئیں، جس سے زہری کے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز خلق جھالاوان میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ خضدار اور تحصیل باغبانہ میں بڑھتے ہوئے چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم پر نواب ثنائاللہ خان زہری نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئیکہاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کسی صورت میں رعایت نہیں کی جائے گی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رہے گا۔ قبائلی معاشرے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی روایت مضبوط ہے اور اس کے تحت ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جو علاقے کے امن کو خراب کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ چوروں اور ڈاکوؤں کے لیے نہ ریاستی سطح پر کوئی رعایت ہوگی اور نہ ہی قبائلی سطح پر انہیں برداشت کیا جائے گا۔
لہذا ہم قبائلی طور پر بھی چوروں کیخلاف حکمت عملی بنارہے ہیں تاکہ ان کا سدباب کیاجاسکے۔ ضمنی انتخابات کے حوالے سے نواب ثنائاللہ خان زہری نے کہا کہ وہ خضدار میں الیکشن چاہتے ہیں اور اپنی سیاسی اور پارٹی ذمہ داری کے تحت اس کے لیے ہر ممکن تیاری مکمل کر چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے الیکشن ملتوی کئے جانے پر کہاکہ حالات ایسے تھے کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر الیکشن عملہ کی تعیناتی ممکن نہیں تھی، اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ حکومت کو اس طرح کے اقدامات اٹھانے پڑے۔
لیکن میں ایک ذمہ دار رہنما اور خضدار کے نمائندے کے طور پر چاہتا ہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہو۔ حکومت کی مجبوری ہو تو میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، تاہم ہم الیکشن کے لیے مکمل تیار ہیں اور مقامی پطور پر پیپلز پارٹی کے جو ذمہ داران اور جیالے ہیں، وہ مکمل چوکس ہیں اور ہر لحاظ سے تیار ہیں۔نواب ثنائاللہ زہری نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اصول اور ڈسپلن کے مطابق وہ پارٹی فیصلہ کیپابند ہے۔
انہوں نے میر شفیق الرحمن مینگل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں اوران کے انتخابی میدان میں کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ڈسپلن اور قیادت کے احترام کے بغیر سیاسی کامیابی ممکن نہیں، اور پارٹی کا مقصد صرف ووٹرز کی خدمت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بہترین نمائندوں کا چوناؤ کرکے کام کرنا ہے۔
نواب ثنائاللہ خان زہری کا کہنا تھا خضدار میں پائیدار امن، جرائم کی روک تھام، عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد زہری میں کرفیو کا مکمل طور پر خاتمہ کرکے عوام کی زندگی معمول پر لائی جائے، اور ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی گزار سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر سطح پر متحرک رہ کر عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور مقامی قیادت اور پارٹی کارکنان کے تعاون سے ترقیاتی اور انتخابی مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔
Leave a Reply