کوئٹہ: رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ حالیہ پاک افغان کشیدگی کا مقصد اگر پاکستان کے جانب سے افغانستان کی موجودہ حکومت کو زیر تسلط لانا ہو تو یہ مناسب عمل نہیں ہے، افغانستان تاریخی اور پاکستان مصنوعی ملک ہے اور افغانستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور ہر ملک کو دوسرے ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان میں اس وقت بھی موجود تھا جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی اور پاکستان میں اس وقت بدامنی بھی بہت شدت سے موجود تھی اس وقت ٹی ٹی پی کو کون سپورٹ کرتا تھا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علما اسلام پاکستان (بلوچستان) کے صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ خونریزی آفت نہیں منصوبہ ہے جو بعض قوتوں کی سیاسی اور بعض کی معاشی ضرورت ہے، ان دونوں قسم کے قوتوں کی گٹھ جوڑ سے ہی خونریزی ہوتی ہے اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ جب مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان خونریزی ہو تو اس میں ایک یا دوسرے فریق کی حمایت کے بجائے مصالحت اور مفاہمت کیلئے کوشش کرنی چاہیے اور جو فریق مصالحت کیلئے تیار نہ ہو اس کے خلاف مظلوم فریق کی حمایت کرنی چاہیے
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے اس دور کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ اصل تلواروں کو کند کیا جائے اور لکڑی کی تلواریں بنائی جائے یعنی لڑنے سے گریز کیا جائے اور اسی دور سے متعلق فرمایا گیا ہے کہ جب رزق کے منابع پر قابض لوگوں کی پیروی کی جائے ہدایت کے بجائے خواہشات کا اتباع کیا جائے، دنیا کو آخرت پر ترجیح حاصل ہو،ہر ایک اپنی رائے کو حتمی اور فیصلہ کن سمجھے تو ایسے وقت میں دوسروں کا فکر چھوڑ کر ہر ایک اپنی اصلاح پر توجہ دیں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک جس چیز کو اپنے آپ کیلئے سہولت سمجھتے تھے وہی چیز ان کیلئے مصیبت کا باعث بن گئی ہے
امریکہ کو سہولتیں اور اڈے دینے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ضرورت کے وقت وہ ان کا دفاع کرے گا لیکن اب امریکہ نے اپنی دشمنیوں کا بوجھ ان کے اوپر ڈال دیا ہے اور یہ اصول تو ہماری قبائلی زندگی میں بھی معروف ہے کہ جب کوئی اپنے گھر کے صحن میں میں کسی کو مورچہ قائم کرنے کی اجازت دے تو اس کے اِس دوست کا دشمن اس سے کہتا ہے کہ یا تو اپنے گھر کے اندر سے اس مورچے کو فارغ کرو یا پھر میری اس مجبوری کو تسلیم کرو کہ اپنے دشمن کو نشانہ بنانا میرا حق ہے
یہی صورت حال ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ پیش آنے والی صورتحال کی ہے انہوں نے کہا کہ اگر کسی خطے میں مذہب کے نام پر مذہبی لوگوں کی حاکمیت قائم ہوتی ہے خواہ ان کا جو بھی مسلک اور مذہب ہو اور چاہیے کوئی انہیں کافر سمجھتا ہے
یا مسلمان سمجھتا ہے،لیکن مذہبی طبقے کو مذہبی بنیاد پر قائم ہونے والے نظام کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ دنیا میں اصل تقابل مذاہب کے اپنے درمیان نہیں بلکہ خدا پرستی اور ہوا پرستی کی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے مشکلات کے خاتمے کیلئے باہمی اتحاد پر زور دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی اتحاد پر مبنی او آئی سی جیسا اتحاد پہلے سے موجود ہے
جس کے 57 مسلم ممالک رکن ہیں، عرب لیگ میں شامل تمام 22 ممالک بھی مسلمان ہیں، خلیج تعاون کونسل کے 6 ممبر ممالک بھی سب کے سب مسلمان ہیں، اسلامک ملٹری کانٹر ٹیریرزم کولیشن بھی مسلم ممالک پر ہی مشتمل ہے، لہذا مسلمانوں کا مسئلہ اتحاد نہیں بلکہ ہمارا کردار ہے جب تک ہمارا کردار تضاد اور دوغلے پن پر مشتمل ہو اس وقت تک اس کردار کے لازمی نتیجے کے طور پر ذلت اور غلامی بھی مسلمانوں کا مقدر رہے گا-
Leave a Reply