|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں اور ان کی تباہی دن ہوگا، ایران میں ایک ساتھ یہ کام مکمل کیا جائے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز کھول دو ورنہ تم جہنم جیسی صورت حال میں زندگی گزارو گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران جلدمعاہدہ نہیں کرتا تو میں سب کچھ تباہ کرنے اور تیل پر قبضہ کرنے پرغورکررہا ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپ ایران بھر میں پلوں اور پاور پلانٹس تباہ ہوتے دیکھیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ بہت حد تک امکان ہے کہ پیر تک معاہدہ ہوجائے، ایران کے کچھ عہدیدار بات چیت کر رہے ہیں، ایران کے موجودہ مذاکرات کاروں کو محدود وقت تک معافی دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ’امریکہ نے رواں برس ایرانی مظاہرین کے لیے کردوں کے ذریعے اسلحہ بھیجا تھا، میرا خیال ہے کہ وہ بندوقیں کردوں نے خود رکھ لیں‘ اس سے قبل گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ کرنے کے لیے اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، بصورت دیگر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو دھمکیاں دے چکے ہیں، اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گالیوں بھری پوسٹ پر عالمی مبصرین حیران اور پریشان رہ گئے ہیں اوران کا کہنا ہے کہ ایران کے نہ جھکنے پر ٹرمپ ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں ان کا مواخذہ کیا جائے ۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کو بھی یہ گالیاں بیپ لگا کر حذف کرنا پڑیں، سی این این کا پینل دنگ رہ گیا، اینکر نے کہا کہ بجلی کے پلانٹ اور انفرا اسٹرکچر پر حملے جنگی جرم سمجھے جاتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے رپورٹر زولان نے کہا کہ صدر ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
عالمی امور کے ماہر بریٹ مک گارک نے کہا کہ ایسی زبان استعمال کرنے سے ٹرمپ کو ڈیل نہیں ملے گی۔
اسکائی نیوز پر مبصر ٹیرا کنگارلو نے کہا کہ ایسے بیانات سے ٹرمپ کی فرسٹریشن ظاہر ہوتی ہے، ٹرمپ کے اقدامات نے ایران کو اور بھی شیر کر دیا ہے، ایرانی قیادت کے لیے موت عظمت کا نشان بن چکی ہے جبکہ ٹرمپ ہر چیز کو ڈیل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ٹریڈ یونین رہ نما ہوورڈ بیکٹ نے کہا کہ ٹرمپ کو اسی آبنائے کا غم ہے جو کچھ دن پہلے ٹرمپ کے خیال میں امریکا کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی، ٹرمپ کی دھمکی جنگی جرم ہے، امریکا میں رجیم چینج کرکے ٹرمپ کو ہیگ کی عالمی عدالت میں لایا جانا چاہیے ۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز رویے پر ردعمل دیا اور اس گھٹیا زبان کو اہل ایران کی توہین قرار دیا۔ ایرانی عدلیہ کی خبر ایجنسی میزان پر ایران کے ردعمل میں کہا گیا کہ ایران کی استقامت اور مزاحمت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پاگل پن کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، امریکی صدر نے اپنے بیان میں جو گھٹیاں زبان استعمال کی وہ ایرانیوں کی توہین ہے۔
اسی طرح پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے والے ٹرمپ اس اعلیٰ منصب کے اہل نہیں، ایران سے متعلق غیر اخلاقی زبان میں دھمکی آمیز بیان دینے پر پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔ ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ غیرمتوازن رویے کی وجہ سے ٹرمپ اس اعلیٰ عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل نہیں ہیں، سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا کہ نااہلی کی بنیاد پر مواخذے کے ذریعے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
روس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ اہم بیان وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس سنگین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار استحکام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ خطے میں امن کے اس عمل کو اسی صورت میں تقویت مل سکتی ہے جب امریکہ دھمکیوں اور الٹی میٹم کی زبان ترک کر کے صورتِ حال کو سفارت کاری اور مذاکرات کی جانب واپس لائے۔
بہرحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نازیبا الفاظ اور دھمکیوں سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کیلئیسنجیدہ نہیں ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کی تباہی چاہتا ہے مگر اس جنگی جنون سے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلے گی جس کے اثرات خوفناک ہونگے جو انسانی بحران کی صورت میںظاہرہوگاجہاں امن اور معیشت دونوں ہی بہت زیادہ متاثر ہونگے ۔
اگر امریکہ ایران پر حملے بند کردے اور اسرائیل کو بھی جارحیت سے روکے تو یقینا مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں جو سب کے مفاد میں ہے لیکن اگر یہی جنگی صورتحال رہی اور اس میں شدت لائی گئی تو پوری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہونگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *