|

وقتِ اشاعت :   April 8 – 2026

پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بہترین سفارتکاری نے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔
امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
اس سے قبل امریکا نے ایران کو اپنی شرائط پر آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا تھا جسے ایران نے مسترد کر دیا تھا، جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور خوفناک صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل بہترین سفارتکاری کرتے ہوئے دونوں ممالک کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضا مند کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کا یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے پر تیار ہے۔
انہوں نے اس اقدام کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی، تاہم یہ عمل ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق کی خبر نشر کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دانشمندی اور دور اندیشی کا مظہر ہے۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے غیر معمولی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92.30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 16.5 فیصد کمی کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔
جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو توانائی کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان کو چھو سکتی ہیں، تاہم فی الحال جنگ بندی نے عالمی معیشت کو بڑا ریلیف فراہم کیا ہے۔
بہرحال پاکستان نے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کرواکے عالمی سطح پر تاریخ کی بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جسے عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے اس جنگ بندی نے مشرق وسطیٰ اور عالمی امن ومعیشت کو بڑے نقصان سے بچایا ہے۔
امید ہے کہ اسلام آباد اکارڈ میں مزید پیشرفت ہوگی، امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع کے امکانات موجودہیں ،عالمی سطح پر اب سب کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں کہ جنگ بندی اگر مستقل بنیادوں پر آگے بڑھے گی تو عالمی سطح پر پھیلنے والے خوفناک جنگ کے بادل اور معیشت پر پڑنے والے تباہ کن نقصانات سے دنیا بچ جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *