|

وقتِ اشاعت :   April 10 – 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی کرینگے۔
جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کی گائیڈلائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لینے جا رہا ہوں، یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہیں گے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت نیک نیتی کیساتھ بات چیت پرآمادہ ہوئی تو امریکا بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کو تیار ہے۔
اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، چالاکی کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم مثبت ردعمل نہیں دے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے جارہے ہیں۔
امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور صدرٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدرجے ڈی وینس کو ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنیکی ہدایت کی ہے، جے ڈی وینس ایران کے خلاف جنگ کے نسبتاً کم حامی سمجھے جاتے ہیں۔
جے ڈی وینس طویل عرصے سے غیر ملکی فوجی مداخلتوں کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے آئے ہیں اور کسی کھلی اور غیر معینہ مدت کی جنگ میں امریکی فوج کو بھیجنے کے امکان کے خلاف کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے اب تک جنگ بندی کے دوران کسی ملک کی جانب کوئی حملہ نہیں کیا۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرحملے کی رپورٹس ہیں تویہ صیہونی حکومت یا امریکا کا کام ہے، ایرانی افواج کسی ہدف کونشانہ بنائیں گی تو جرات کیساتھ اس کا اعلان کریں گی۔
بہرحال ایران کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے سراہا گیا ہے۔
فریقین کی جانب سے اب تک مثبت باتیں سامنے آرہی ہیں جس میں جنگ کا عنصر کم دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی ممالک اور ادارے بھی پر امید ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں اگر اسرائیل لبنان پر اپنی جارحیت ترک کردے اور مذاکرات میں طے ہونے والے متفقہ شرائط پر عمل کرے۔
جنگ بندی کیلئے ضروری ہے کہ کسی قسم کی جارحیت نہیں ہونی چاہئے اور اہم نکات پر متفق ہونا ضروری ہے تاکہ جنگ بندی میں مزید توسیع ہو اور بات چیت کے ذریعے معاملات کا حل نکالا جائے۔
پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ اور بیشتر عالمی ممالک کی کوشش یہی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوں، جنگ بندی میں پیشرفت ہو تاکہ امن کو راستہ مل سکے، یہی ایک واحد حل ہے جو دنیا کو معاشی بحران اور بڑی جنگ سے بچا سکتا ہے۔
امید ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت ہوگی اور فریقین ایک طویل جنگ بندی پر متفق ہونگے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *