|

وقتِ اشاعت :   April 11 – 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع گوادر میں محکمہ خوراک کے 17 گودام میں سے ایک پولیس اور سولہ منشیات کے عادی افراد کے زیر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے،

وزیر خوراک بلوچستان کا کہنا ہے کہ ہم نے گوداموں کی حالت بہتر بنانے کیلئے وزیر اعلی بلوچستان سے فنڈز مانگے تھے جو نہیں ملے جبکہ گوادر سے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن ان گوداموں کو اسکولز اور اسپتالوں میں تبدیل کرنے کی تجویز دے دی ،اس بات کا انکشاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہوا جب رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خوراک نے بتایا کہ ضلع گوادر میں محکمہ خوراک کے 17گودام اور 18ملازمین ہیں ،17 گوداموں میں سے ایک بلوچستان کانسٹبلری پولیس کے زیر استعمال ہے

جبکہ سولہ گودام خستہ حال ہیں جس پر رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے بتایا کہ ضلع گوادر میں خستہ حال سولہ گودام منشیات کے عادی افراد کے زیر استعمال ہیں مولانا ہدایت الرحمن نے ان گوداموں کو اسکولز اور اسپتالوں میں تبدیل کرنے کی تجویز دے دی وزیر خوراک بلوچستان نور محمد دمڑ کا کہنا ہے کہ چونکہ اب محکمہ خوراک نے گندم کی خریداری بند کردی ہے اب محکمہ خوراک کے گودام کی ضرورت نہیں رہی ہے اس لئے مولانا ہدایت الرحمن کی تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *