کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے قتل پر ارکان کا احتجا ج اور کاروائی کا مطالبہ، وزیراعلیٰ نے حکومت نے واقعات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کروا دی،
پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکرکیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔
اجلاس کے دوران بی اے پی کے رکن اسمبلی آغا عمر احمدزئی نے کہا کہ ان کے حلقے کے ایک نوجوان کو پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا، اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے۔ یونس زہری نے دعویٰ کیا کہ نوشکی سے خون دینے آنے والے ایک نوجوان کو ایگل پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔
رکن اسمبلی عبدالصمد گورگیج نے بروری میں سبزی فروشوں کے قتل کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سبزی فروشوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ نوجوان کے قتل کے واقعے کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا ہے اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ رکن اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سریاب میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق خالد ساسولی بے گناہ ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ نوجوان بے گناہ ثابت ہوا تو حکومت اس کے خاندان کو مالی معاونت فراہم کرے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایگل اسکواڈ نے مجموعی طور پر اچھے کام بھی کیے ہیں تاہم اگر کسی اہلکار سے غلطی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سزا دی جائے گی۔
Leave a Reply