کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان یونیورسٹیز کے ترمیمی مسودہ قانون سمیت پانچ مسودات قانون منظور کرلئے، گوادر کے ماہی گیروں کو جنوبی کوریا بھجوانے میں تاخیر سے متعلقہ توجہ دلاو نوٹس وزیرا علی کی یقین دھانی پر نمٹا دیا گیا ،
اسپیکر نے این سی ایچ ڈی اور بیکس کے اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کے معاملے اور صوبے میں درسی کتب کی بروقت فراہمی نہ ہونے سیکرٹری تعلیم سے ، جبکہ صوبے میں جعلی ادویات کی فروخت پر وزیر صحت سے رپورٹ طلب کرلی، کوئٹہ میں گیس کی لوڈمینجمنٹ بڑھا نے پر ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی اور خضدار اور گوادر میں شراب خانوں میں اضافے پر سیکرٹری ایکسائز سے رپورٹ طلب اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی ۔
پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان انسداد گداگری ،بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ، بلوچستان اورسیز پاکستانز کمیشن اور بلوچستان سروس ٹربیونل ترمیمی مسودات قوانین کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں منظور کرلیا گیا جبکہ بلوچستان یونیورسٹیز کا ترمیمی مسودہ قانون بھی منظورکرلیا،مسودہ قانون صوبائی وزیر سیلم کھوسہ نے پیش کیا ،اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس قانون میں صوبے کی جامعات کے وائس چانسلرز کے دوران مدت تین سال سے بڑھا کر چار سال کرنا ہے ،
اجلاس میںرکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے گوادر کے ماہی گیروں کو جنوبی کوریا بھجوانے سے متعلقہ توجہ دلاو نوٹس پیش کیا جسے وزیراعلی کی یقین دھانی پر نمٹا دیا گیا۔اجلاس کے دوران مولانا ہدایت الرحمن نے گوادر میں شراب خانوں کے قیام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انہیں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر یہ بند نہ کیے گئے تو وہ خود کارروائی کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ جھالاون کے نام سے کوئٹہ میں شراب خانہ کھولا گیا ہے ، اب اسے خضدار منتقل کیا جارہا ہے
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے انہیں قانون ہاتھ میں نہ لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ شراب خانوں کی اجازت محکمہ ایکسائز دیتا ہے اور اگر کوئی غیر قانونی سرگرمی ثابت ہوئی تو اسے ختم کیا جائے گا ۔
وزیرداخلہ ضیاء اللہ لانگو نے بھی معاملے کا نوٹس لینے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ اسپیکر نے خضدار اور گوادر میں شراب خانوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔اجلاس میںنیشنل پارٹی کے رکن خیر جان بلوچ نے این سی ایچ ڈی اور بیکس اسکولوں کے اساتذہ کی کم تنخواہوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ اسکولز وفاقی حکومت کے پاس تھے اب صوبے کے پاس ہیں ، ان کو 12 ہزار روپے تنخواہ دی جارہی ہے کم سے کم تنخواہ 37 ہزار ہے جس پر اسپیکر نے سیکرٹری تعلیم سے رپورٹ طلب کرلی۔
بی اے پی کی رکن فرح عظیم شاہ نے صوبے میں جعلی ادویات کی فروخت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کینسر جیسے امراض میں اضافہ ہورہا ہے، جس پر وزیر صحت سے رپورٹ طلب کی گئی۔ جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ روف نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ بڑھانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس لوڈمینجمنٹ نے شہریوں خاص طور پر خواتین کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے ، جس پر ایم ڈی گیس سے رپورٹ طلب کی گئی ۔اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن نے تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود درسی کتب کی عدم فراہمی کا مسئلہ بھی اٹھایا، جبکہ پارلیمانی سیکرٹری میر اصغر رند نے مکران میں عبدوئی بارڈر کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل پارٹی کے میر رحمت بلوچ نے ایران پاکستان چیدگی بارڈر پر ایل پی جی باوزرز کی موجودگی اور حکومتی عدم توجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان چیدگی بارڈر پر 55 ایل پی جی کے باوزر کھڑے ہوئے ہیںوفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہیں ۔
اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن نے اسپیکر سے استفسار کیا کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو گرانے سے متعلق رپورٹ کا کیا ہوا۔جس پر اسپیکر نے جواب دیا کہ یہ رپورٹ ہمارے پاس نہیں آئی مگر میری معلومات کے مطابق یہ رپورٹ حکومت کے حق میں نہیں ہے ۔
رکن اسمبلی میراسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت 50 سال تک مزید چل سکتی ہے اگر کک بیک اور کمیشن کے لئے اس عمارت کوگرا کر 15 ارب خرچ کر نے کی مخالفت کریں گے۔ اجلاس میں محکمہ نظم و نسق اور لائیو اسٹاک سے متعلق سوالات متعلقہ وزراء کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردیئے گئے۔اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس 16 اپریل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Leave a Reply