|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

تربت : ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور اس کے گردونواح میں ڈینگی وائرس تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے، جہاں صورتحال تشویشناک حد تک سنگین اختیار کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کے تقریباً ہر گھر میں تین سے پانچ افراد ڈینگی بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل سے اب تک ڈینگی کے مجموعی طور پر 531 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ روزانہ 50 سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو کہ صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شاہی تمپ ہے، جہاں تقریباً 60 فیصد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ صحت اور متعلقہ حکام نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں ڈینگی وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں جب 166 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اسی وقت اگر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جاتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔محکمہ صحت ضلع کیچ کے ذرائع کے مطابق ادارے کے پاس محدود وسائل ہیں، جس کی وجہ سے مؤثر انداز میں ڈینگی کے خلاف مہم چلانا مشکل ہو رہا ہے۔

تاہم دو ہفتوں کے دوران کیسز میں غیر معمولی اضافے کے بعد اب فوگنگ اور اسپرے مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔عوامی حلقوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گزشتہ برسوں 2024 اور 2025 میں بھی ڈینگی کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس لیے ایسے سیزن سے قبل انسدادی اقدامات کرنا ضروری تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈینگی مچھر کی افزائش نسل روکنے کے لیے پیشگی اسپرے نہ کرنا ایک بڑی غفلت ہے۔عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کو اس بڑھتے ہوئے بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے،

جن میں شہر بھر میں ہنگامی فوگنگ، اسپرے مہم، ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز کا قیام، اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانا شامل ہیں۔شہریوں نے کہا کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ڈینگی وائرس مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے، جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہونے کا خدشہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *