|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ الحمدللہ ہم نے ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کو بحران سے بحالی کی جانب گامزن کرنے میں کامیابی حاصل کی وژن اور ٹیم ورک کے توسط سے بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں معنی خیز اصلاحات لائے۔

پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا بجٹ 2.5 ارب روپے سے بڑھا کر 8 ارب روپے کر دیا جس سے ادارہ جاتی ترقی اور ہر یونیورسثی میں تجدید ہو رہی ہے۔

ان دانشمندانہ فیصلوں نے صوبے کی تمام یونیورسٹیز کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو بلند کیا جس سے کوالٹی ایجوکیشن کی بنیاد پڑی۔ اس رفتار کو جاری رکھتے ہوئے آج ہم نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ہائی وولٹیج انجینئرنگ لیبارٹری اور سہولیات کی مظبوطی کے مرکز کا افتتاح کیا جو پائیدار ترقی اور آگے بڑھنے کی بصیرت کی غمازی کرتا ہے۔

یہ بات انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ہائی ولٹیج انجینئرنگ لیبارٹری اور سہولیات کی مضبوطی سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میرویس کاسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی اور ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی بیوٹمز ڈاکٹر سعید اللہ جان مندوخیل سمیت تمام متعلقہ شعبوں کے سربراہان موجود تھے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو دونوں منصوبوں سے متعلق بریفننگ دی گئی۔

اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں ضروری سہولیات تک رسائی کو یقینی بنا کر ہم نے ایک ایسا تعلیمی ماحول پیدا کیا جہاں سیکھنے اور جدت کاری کو حقیقی معنوں میں فروغ ملا۔

اب وقت پر تنخواہوں کی وصولی کے ساتھ تمام فیکلٹی ممبران یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کے ذہنوں کو جدید علمی جہاں بینی سے روشن کرنے کیلئے پوری دلجمی کے ساتھ اپنے فرائص انجام دے رہے ہیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں میں سولر سسٹم کی تنصیبات اور اضافی اراضی کو زیر کاشت لانے کے اقدامات بنیادی ڈھانچہ کو مضبوط کیا ہے۔

ہمارے صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کا شعبہ اب نئی توانائی اور مقصد کے ساتھ ابھر رہا ہے، ایک روشن اور زیادہ امید افزا مستقبل کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *