کوئٹہ : بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گزشتہ رات پولی ٹیکنیک کالج کے ہاسٹل سے بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل بلوچ کی گرفتاری اور بعد ازاں گمشدگی تشویشناک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بابل بلوچ کو رات گئے ہاسٹل سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور تاحال ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت یا مقام سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ عمل جبری گمشدگی کے زمرے میں آتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بابل بلوچ ایک پرامن طلبہ رہنما ہیں جو ہمیشہ آئینی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ طلبہ رہنماؤں کو اس طرح لاپتہ کرنا بلوچستان میں تعلیمی ماحول کو خراب کرنے اور نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
بی ایس او مطالبہ کرتی ہے کہ بابل بلوچ کو فی الفور بازیاب کر کے منظر عام پر لایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ترجمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بابل بلوچ کی بازیابی کے لیے فوری کردار ادا کریں۔
Leave a Reply