ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن عجی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے مذاکرات سے فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی وہ اس سے خوفزدہ ہیں۔
اپنے بیان میں غلام حسین محسن عجی نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ دھمکیوں کے ذریعے جو حکم دیا جائے یا مسلط کیا جائے، ہم اسے قبول کر لیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دشمن جو اہداف جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے امریکی مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ہرگز دفاع (سیلف ڈیفنس) کے زمرے میں نہیں آتیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے امریکی محکمہ خارجہ کی ایک دستاویز کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے یہ کارروائی اپنے اتحادی اسرائیل کے اجتماعی دفاع اور اپنے حقِ دفاع کے تحت کی۔
ایرانی ترجمان نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’کس چیز کے خلاف دفاع؟ کیا ایران کی جانب سے کوئی مسلح حملہ ہوا تھا جس کی بنیاد پر یہ کارروائی جائز قرار دی جا سکے؟ یقیناً نہیں۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو دفاعِ خودی کہنا درست نہیں بلکہ یہ ایران کے خلاف ایک کھلی جارحیت ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس بیان بازی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی اختلافات میں اضافہ متوقع ہے۔
Leave a Reply