|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہیجس سے اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
ذرائع وزارت توانائی کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی قیمت میں32 فیصد ٹیکسز ہیں، ایک لیٹرپیٹرول کی قیمت میں 129روپے 72 پیسے کے ٹیکسز شامل ہیں جبکہ فی لیٹر پیٹرول میں 23 روپے 72 پیسے کسٹم ڈیوٹی بھی شامل ہے۔
فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 103روپے 50 پیسے لیوی شامل ہے، ایک لیٹرپیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی ہے۔
ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 21 فیصد ٹیکس شامل ہے، فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 82 روپے 81 پیسے ٹیکسز کے ہیں جبکہ 51 روپے 62 پیسے کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔
فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 28 روپے 69 پیسے لیوی شامل ہے جبکہ 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی عائد ہے۔
دوسری جانب وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی کی شرح میں 2.48 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ وزارت خزانہ نے اپریل کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8 سے 9 فیصد لگایا تھا۔
جولائی 2025ء سے اپریل 2026ء تک اوسطً مہنگائی 6.19 فیصد رہی، جبکہ مارچ 2026ء میں سالانہ مہنگائی کی شرح 7.30 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
گزشتہ سال اپریل میں مہنگائی کی سالانہ شرح 0.3 فیصد تھی۔
ماہانہ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی 2.9 فیصد بڑھی، جبکہ شہری علاقوں میں اپریل کے دوران مہنگائی میں 2.75 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں سالانہ مہنگائی 10.56 فیصد رہی۔
شہروں میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.11 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد اشیاء خورد و نوش بے تحاشہ مہنگی ہونے لگیں، عوام کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو گیا ہے، مارکیٹوں میں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے،عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے محض دعوے کئے جاتے ہیں جبکہ زمینی حقائق بالکل اس کے برعکس ہیں، عوام کا مہنگائی سے جینا محال ہوکر رہ گیا ہے ،آمدن محدود جبکہ اخراجات بڑھتے جارہے ہیں ۔
عوام موجودہ حالات میں شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں ،بجلی ،گیس انتہائی مہنگی ہونے کے باوجود عوام کو دستیاب نہیں۔
حکومت اپنے اخراجات میں کمی کرے، ٹیکسز کا بوجھ عوام پر نہ ڈالے اور اپنے ریلیف کے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ مہنگائی کی شرح کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ موجودہ معاشی بوجھ سے سب سے زیادہ عوام متاثر ہورہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *