گوادر فری زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ‘ہین گینگ ٹریڈ کمپنی’ نے یکم مئی کو انتظامی اور پالیسی مسائل کی بنیاد پر اپنی فیکٹری بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ اس خبر نے سی پیک (CPEC) منصوبوں اور گوادر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
اس صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے فوری نوٹس لے لیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیر کے روز ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کو چینی کمپنی کی شکایات کا جائزہ لینے اور انہیں فوری حل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو درپیش ہر قسم کی آپریشنل اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے۔
منصوبہ بندی کی جانب سے فعال کردار ادا کرنے اور احسن اقبال کی ذاتی دلچسپی کے بعد چینی کمپنی نے اپنا فیکٹری بند کرنے اور سرمایہ منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔
وفاقی وزیر اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کے دورہ چین سے قبل گوادر میں موجود چینی سرمایہ کاروں کے تمام جائز مطالبات پورے ہوں تاکہ بی ٹو بی (B2B) فورم کے دوران مثبت ماحول میسر آئے۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال کی مداخلت سے یہ بحران ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے “کلیئر اور ایگزیکیوٹیبل پالیسی” کی فراہمی کی یقین دہانی نے کمپنی کو دوبارہ کام شروع کرنے پر آمادہ کیا ہے، جو کہ گوادر پورٹ کی فعالیت کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے
Leave a Reply