|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ضلع راسک میں مسلح افراد کی جانب سے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی فارسی کے مطابق زخمی ہونے والوں میں محمود باغبانی بھی شامل ہیں۔ محمود باغبانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شہر راسک میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ہیں۔

بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دیگر اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق آج علی الصبح مسلح افراد نے صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوبی سرحدی شہر راسک میں ’پاسدارانِ انقلاب کی ایک گاڑی‘ پر حملہ کیا۔

تسنیم کے مطابق مسلح افراد کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ’مزاحمت‘ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ’موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔‘

تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں سیستان بلوچستان میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل، بدھ کے روز سیستان پولیس انفارمیشن سینٹر نے بتایا تھا کہ زاہدان میں سکیورٹی فورسز پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور کم از کم دو دیگر زخمی ہو گئے۔ اسی دوران ایک اور واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک گشتی دستے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

بشکریہ بی بی سی 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *