|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

تربت: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سابق سکریٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی نے نیشنل پارٹی تحصیل دھشت کے کونسل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد اور ملک کی مقتدرہ بلوچستان کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لے رہا ہے

بد قسمتی سے وفاق پاکستان کو بلوچ وطن اور اس میں بسنے والے لوگوں سے زیادہ بلوچستان کے وسائل میں دلچسپی ہے۔

بلوچستان میں لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے بھی اسلام آباد تیار نہیں ہے جب تک بلوچستان کی سیاسی و جمہوری قومی جماعتوں کے سیاسی مقام کو تسلیم نہیں کیا جاتا حالات کسی صورت بھی بہتر نہیں ہونگے۔

انھوں نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ ایک سیاسی اور قومی مسئلہ ہے اس کا سیاسی گفت و شنید ہی حل ہے لیکن یہ بات حکمرانوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے وہ طاقت کے زور پر اس کو حل کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غلط سوچ اور غلط پالیسی کی وجہ سے بلوچستان یہاں تک آگیا ہے جو آگ بلوچستان میں جنرل مشرف نے لگائی ہے بلوچ ایسی آگ میں جھلس رہا ہے۔ وقت و حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بلوچستان میں قومی مفاہمتی پالیسی اپنا کر سیاسی مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے اور لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل میں کرپشن کو ختم کیا جائے، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، ملازمتوں میں بلوچ نوجوانوں کو میرٹ پر بھرتی کی جائے۔ گرفتار سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے یا عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

غیر قانونی ماورائے آئین و قانونی اقدامات سے گریز کیا جائے۔ انھوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کو فعال و متحرک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پارٹی ممبرشپ کارڈز کے لیے دیئے گے فارم کو پر کرکے فورا مرکزی سیکرٹریٹ کو ارسال کریں یا ضلعی تنظیم کے حوالے کریں۔اجلاس سے حاجی فدا حسین دشتی، یونس جاوید ، ڈاکٹر سجاد دشتی، عزیزاللہ دشتی، وسیم بلوچ اقبال انور دشتی، حمل دشتی، نثار احمد، اسحاق بلوچ، فضل بلوچ ، شبیر ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *