|

وقتِ اشاعت :   October 28 – 2016

اسلام آباد+اٹک +اسلام آباد : حکومت نے تحریک انصاف کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا، رات گئے ملنے والی اطلاعات کے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تین سو کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جس میں 34خواتین بھی شامل ہیں، عمران خان نے گرفتاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بہت غلط کیا اب سخت جواب کا انتظار کریں، آج ملک بھر میں گرفتاریوں کیخلاف مظاہرے ہونگے، راولپنڈی میں بھی پولیس نے شیخ رشید کے آج کے جلسے کو ناکام بنانے کیلئے کریک ڈاؤن شروع کردیا ان کے متعدد کارکنوں کو گرفتار اور لال حویلی کے مطابق دفعہ 144کے نفاذ اور کنونشن کی اجازت نہ دینے پر گرفتاریاں کی ہیں،اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور کارکنوں پر تشدد، درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیاگیا۔پولیس اور پی ٹی آئی کارکنا ن میں ہاتھا پائی سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت اپنا اصل چہرہ دکھا رہی ہے، خواتین پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں، ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے،تحریک انصاف نے آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں تحریک انصاف یوتھ ونگ اور انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کا کنونشن جاری تھا کہ پولیس نے ہوٹل کا محاصرہ کر کے تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور تشدد شروع کر دیا ۔تشدد کا نشانہ بننے والوں میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں۔پولیس ، رینجرز اور ایف سی کے اہلکاروں نے تحریک انصاف کے 52 کارکنوں کو پکڑ کر تھانہ گولڑہ، تھانہ رمنا ، تھانہ شالیمار اور تھانہ ویمن میں منتقل کر دیا ہے۔ ایس پی ذیشان کی سربراہی میں 300پولیس اہلکار، 100ایف سی اور 50رینجرز اہلکاروں نے حصہ لیا۔صورتحال خراب ہوتے ہی اسسٹنٹ کمشنر علی اصغر بھی ای الیون پہنچ گئے ۔رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کے سامنے پولیس اور کارکنوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے صدر،نائب صدر ،مرکزی میڈیا سیل انچارج افتخاردرانی کوبھی گرفتار کرلیا گیا۔جس کے بعد شاہ محمود قریشی برہم ہو گئے اور پولیس کے سامنے آگئے،تحریک انصاف کے لاک ڈاؤن سے قبل پولیس کاکریک ڈاؤن ،بنی گالہ اورلال حویلی جانے والے راستوں کوسیل کردیاگیا۔اسلام آبادکی مارکیٹوں میں ہوٹل بھی زبردستی بندکروادیئے گئے ،درجنوں کارکنوں کی گرفتاریاں کرکے پولیس تعدادبتانے سے گریزکرنے لگی۔جمعرات کی شب اسلام آبادکی ضلعی انتظامیہ نے سپر،جناح سپر،آبپارہ ،ایف ایٹ اوردیگرمارکیٹوں میں ہوٹل اورچائے خانوں کوزبردستی بندکروادیاجس کے باعث لوگوں کوشدیدمشکلات رہیں اورلوگ کھانے پینے کیلئے ادھرادھربھاگتے رہے جبکہ اسلام آبادپولیس نے کارکنوں اورعہدیداروں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کردیاہے اوردرجنوں کارکنوں کوگرفتارکرلیاگیاہے ،جن کونامعلوم مقام پرمنتقل کردیاگیاتحریک انصاف کاکہناہے کہ ان کے کارکنوں کوپولیس نے گرفتارکیاہے جبکہ پولیس کسی کارکن کی گرفتاری کوظاہرنہیں کررہی اورنہ ہی کسی تھانے میں کارکنوں کوبندکیاگیاہے ۔دوسری جانب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ جانے والے تمام راستوں کوپولیس نے کنکریٹ کے بلاک لگاکرسیل کردیاہے ادھرپولیس نے بھی لال حویلی جانے والے راستوں کوبندکردیاہے اورکنٹینراوردیگرسامان بھی اٹھاکرلے گئے ہیں،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی جانب سے کرپشن ‘لوٹ مار اور پانامہ لیکس کے خلاف لال حویلی کے باہر آج(جمعہ) کو ہونے والے جلسہ عام کو ناکام بنانے کے لئے راولپنڈی پولیس نے عوامی مسلم لیگ کے متحرک کارکن چوہدری اظہر ‘ملک نواز‘ پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے اعجاز خان جازی کے دو بھائیوں سمیت درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے ‘عوامی مسلم لیگ کے راہنما شیخ راشد شفیق ‘ سٹی کے عہدیداران آصف شہزاد مغل اور چوہدری ظفر سمیت دیگر عہدیداران اور متحرک کارکنان کو گرفتار کر نے کے لئے گھروں میں چھاپے مارے گئے ‘ساؤ نڈ سسٹم لانے والے ندیم الحق کو بھی گرفتار کر کے دوکان سیل کر دی گئی ‘رات گئے راولپنڈی بھر میں عوامی مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداران اور کارکنوں کی گرفتاری کے لئے چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا،رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں سے دو سو سے زائد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، گرفتاریوں کیخلاف لاہور کراچی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کا احتجاج مختلف شاہراہوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک کومعطل کیا ،دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف (آج) جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے پرامن احتجاج کی اجازت دینے کے باوجود کارکنوں پر دھاوا بولا گیا ،شریف برادران کو جمہوریت کی اے بی سی نہیں آتی ، کارکنوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ، ردعمل حکومت برداشت نہیں کر پائے گی ، مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت آئے گی ، نقصان حکومت کا ہوگا، نوازشریف بڑی دیر الطاف حسین کو بھی نوازتے رہے ، زرداری کو الیکشن سے پہلے کرپٹ کہتے تھے اب گلے لگا لیا، (آج) جمعہ کو شیخ رشید کے جلسے میں شرکت کروں گا ہمت ہے تو حکومت گرفتار کر لے جبکہ ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے کہا کہ حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے ، قائدین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے ردعمل آئے گا، کارکن عمران خان کے گھر کی نگرانی کریں گے ۔جمعرات کو تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن کے موقع پر کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اجلاس ہوا جس میں جہانگیرترین ، نعیم الحق، فیصل جاوید، شیریں مزاری سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی ۔اجلاس کو شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔اجلاس میں کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد احتجاج کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف (آج) جمعہ کو پورے پاکستان میں احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو تیس سال سے جانتا ہوں ،انہیں جمہوریت کی اے بی سی بھی نہیں آتی ئی کورٹ کی طرف سے پرامن احتجاج کی اجازت دینے کے باوجود کارکنوں پر دھاوا بولا گیا ، کارکنوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ، ردعمل حکومت برداشت نہیں کر پائے گی ، مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت آئے گی ، نقصان حکومت کا ہوگا، انہوں نے کہا کہ حکمران بزدل اور بے وقوف ہیں ، تیس سال سے ملک کا پیسہ کھا رہے ہیں، بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمیں پر امن رہنے دیا جائے ، بتایا جائے جمہوریت کو کون نقصان پہنچا رہا ہے ، مجھے جیل میں کتنی دیر رکھ لیں گے ، جب تک زندہ ہوں احتجاج جاری رکھوں گا ۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں خواتین کو سامنے سے گولیاں ماری گئیں ، نوازشریف اپنا پیسہ بچانے کے لئے لوگوں کو مروا رہا ہے ،تحریک انصاف کے وائس چیئرمین ورکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے کارکنوں کی رہائی کے بدلے اپنی اور اسدعمر کی گرفتاری کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن احتجاج ہمارا حق ہے ، موجودہ دور حکومت آمریت سے بھی بدتر ہے،تحریک انصاف کے گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لئے قانونی کاروائی اختیار کریں گے ، اسد عمرنے کہا کہ اسلام آباد کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو تحریری دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، حکومت پریس والوں کو پی ٹی آئی کے بینرز اور پوسٹر چھاپنے سے منع کر رہی ہے ، اگر پہلے 10لاکھ افراد اسلام آباد آرہے تھے اب 20لاکھ آئیں گے۔