|

وقتِ اشاعت :   October 29 – 2016

اسلام آباد: سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقاجات کے مسائل نے کرک میں آئل ریفائنری قائم کرنے ، کوئٹہ ، زیارت ، پشین ، قلات و دیگرمنفی درجہ حرات والے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں نومبر تک گیس پریشر مکمل کرنیکی سفارش کرتے ہوئے بلوچستان کے ڈومیسائل پر سرکاری نوکریاں حاصل کرنے والے افسران اور سٹا ف کی متعلقہ اضلاع سے تصدیق کرانے کی ہدایت کر دی ۔ فنکشنل کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکٹر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 27 اپریل کے کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے علاوہ ا و جی ڈی سی ایل کا گزشتہ تین برسوں کے دوران پسماندہ بشمول فاٹا کے علاقوں میں ترقیاتی کام آئل اور گیس کی دریافت کیلئے کیے گئے اقدامات ، آئل گیس کی پیدوار اور صرف ، فاٹا و کم ترقیاتی یافتہ علاقوں کیلئے او جی ڈی سی ایل کی طرف سے دیئے گئے وظائف ، ملک میں قائم کی گئی آئل ریفائنریز ، او جی ڈی سی ایل میں فاٹا و صوبہ وائز بھرتی کیے گئے ملازمین کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ 27 اپریل کے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قلات ، کوئٹہ ، زیارت کے علاقوں میں گیس سپلائی پہلے سے ہی جاری ہے اور پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر گیس کنکشن بھی فراہم کیے جارہے ہیں ۔ قلات میں گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوگیا ہے ۔ زیارت میں نومبر کے آخر تک مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ کوئٹہ کیلئے اضافی گیس دینے کا پروگرام ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ ، زیارت ، پشین ،قلات سخت سردی والے علاقے ہیں درجہ حرارت منفی پندرہ سے بھی زیادہ گر جاتا ہے وہاں گیس کا صحیح پریشر نومبر کے مہینے تک مکمل کر لیا جائے اور ہرنائی ، لورلائی ، ژوب ،موسیٰ خیل، مسلم باغ ،قلعہ سیف اللہ ، شیرانی ، ڈوکی سنجانی اورنوشکئی میں گیس پائپ لائن کے منصوبوں پر جلد سے جلد کام شروع کیا جائے۔ اور فنکشنل کمیٹی اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان کو ایک خط بھی لکھے گی کہ بلوچستان کے متعلقہ منصوبوں کی منظوری دی جائے ۔ فنکشنل کمیٹی نے سبی اور چاغی میں آلودہ پینے کے پانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنکشنل کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ ان علاقوں کا سروے کر کے شفاف پانی کیلئے انتظامات کروائے جائیں۔ فاٹا میں گیس کے منصوبوں کو مکمل کیا جائے اور اس حوالے سے 2010 میں جو ایک ارب روپے مختص کیا گیا تھا اس کو جلد سے جلد رلیز کیا جائے۔فنکشنل کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ صوبہ بلوچستان میں ہیپاٹئیٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لوگوں کی مالی حالت بہتر نہیں ہے ۔ اس لئے آغا خان ہسپتال میں پانچ سو مریضوں کیلئے مفت ٹیسٹ کا انتظام کرایا جائے ۔ فنکشنل کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وزارت پیٹرولیم کی آمدن کا 90 فیصد کم ترقی یافتہ علاقوں کی بہتری کیلئے خرچ کیا جائے۔ جس پر جنرل منیجر عبدالرؤف نے بتایاکہ ہمارا کام ریونیور اکھٹا کرنا ہے خرچ وزارت خزانہ کا کام ہے ۔فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل اور گیس کے پسماندہ علاقوں کے تین سو طالبعلموں کو انٹر شپ پروگرام کے تحت ماہانہ25ہزار تنخواہ پر ہائیر کیا گیا ہے اور تین سو بچوں کو جس میں75 کا تعلق کرک اور کوہاٹ سے ہے کو بی اے تک تعلیم کے سارے اخراجات برداشت کیے جائیں ۔ قائداعظم یونیورسٹی سے معاہدہ کر لیا گیا ہے ۔ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے جلد معاہد ہ کر لیا جائے گاجس میں پسماندہ علاقوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے گی ۔ فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں پانچ بڑی اور ایک چھوٹی آئل ریفائنری فیکٹریاں قائم ہیں ۔ فنکشنل کمیٹی کے چیئرمین و اراکین نے کہا کہ جہاں سے آئل و گیس نکلتی ہے ان علاقوں میں ریفائنریاں لگانے کی بجائے بڑے شہروں کو نواز جاتا ہے اگر پسماندہ علاقوں میں لگ جائیں تو لوگوں کو روزگار میسر ہوگا اور علاقے کی خوشحالی ہوگی۔ نام اٹک یفائنری ہے مگر یہ ریفائنری راولپنڈی میں قائم ہے ۔ فنکشنل کمیٹی نے متفقہ طور پر کرک میں آئل ریفائنری لگانے کی ہدایت کر دی ۔ اورصوبائی کوٹے کے مطابق تقرریوں پر سختی سے عمل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے صوبہ بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل حاصل کر رکھے ہیں تمام ملازمین کے جن کا تعلق بلوچستان سے ہے متعلقہ اضلاع سے دومیسائل کی تصدیق کرائی جائے اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ اوگرا کے صوبوں میں علاقائی دفاتر قائم کیے جائیں گے پشاور اور کوئٹہ میں جلد سے جلد علاقائی دفتر قائم کیا جائے ۔ فنکشنل کمیٹی کو ایم ڈی اوگرا زاہد میر اور جنرل منیجر اوگرا عبدالرؤف نے فاٹا اور چاروں صوبوں کے پسماندہ علاقوں پچھلے تین سالہ ڈویلپمنٹ منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ صحت کے شعبے میں84 ملین روپے، تعلیم کے شعبے میں87 ملین روپے، پینے کے صاف پانی کیلئے 188 ملین روپے، انفراسٹرکچر پر8 ملین روپے، گیس پر 1064 ملین روپے خرچ کیے گئے ۔ اور مالی سال 2016-17 میں تعلیم ، صحت ، پانی کے شعبوں پر802 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ امن فاؤنڈیشن کے ساتھ نیشنل سکل ڈویلپمنٹ ،ہیلتھ کیئر سروسز ، ٹیلی کلینک پروگرام ، موبائل میڈیکل یونٹ ، آغا یونیورسٹی کے ساتھ لائف سیونگ پروگرام ، آئی بی اے کے ساتھ نیشنل ٹیلنٹ بلڈنگ کپیسٹی پروگرام ، دیہی علاقوں میں سولر کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے پروگرام وغیرہ شامل ہیں۔ فنکشنل کمیٹی کو صوبہ وائز گیس آئل کی پیدوار آمدن اخراجات کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ او جی ڈی سی ایل کے کل ملازمین کی تعداد 13 ہزار 819 ہے جن میں 2590 افسر ہیں ،پنجاب سے6574 ، خیبر پختونخوا 1460 ، بلوچستان1141 ، سندھ4100 ، اے جے کے 269 ، فاٹا کے 64 شامل ہیں۔ فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ 90 فیصد ان سکل مقامی لوگ بھرتی ہوتے ہیں ۔ اجلاس میں سینیٹرز سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، خالد ہ پروین اور گیان چند کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم فرقان بہادر، ایم ڈی اوگرا زاہد میر، جی ایم اوگرا عبدالرؤف، ڈی جی گیس ، ڈی جی آئل کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔