|

وقتِ اشاعت :   December 30 – 2016

کوئٹہ : وکلاء و سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں نے سانحہ 8اگست کو کوئٹہ کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور نقصان دہ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہوسکے گا ، وکلاء کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے اس پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جس فکری یکجہتی اور عملی اقدامات کی ضرورت تھی وہ نہیں اٹھائے گئے ، حکمران اسے سی پیک سے جوڑتے رہے اور سپریم کورٹ کے ٹریبونل کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کی گئیں جس سے شہداء کے خاندانوں سمیت تمام طبقات میں مزید مایوسی اور بے چینی پھیل گئی اس طرح کے واقعات کی موثر روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ، وکلاء سول سوسائٹی اور دیگر طبقات فکری یکجہتی کا مظاہرے کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی راہ روکی جاسکے۔ ان خیالات کااظہار خالد خان کاکڑ ایڈووکیٹ ، نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ ،باز محمد کاکڑ کے بھائی ڈاکٹرلال محمد کاکڑ ،ایمن ایڈووکیٹ کے والد تاج وطن دوست ،محمد حسن آغا،پروفیسر ڈاکٹر صادق ژڑک، تاج وطن دوست ،منظور بلوچ، آغازاہداور دیگر مقررین نے ورلڈ پشتو(مرکہ ) فورم کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر غنی خلجی ایڈووکیٹ ،جماعت اسلامی کے حاجی عبدالقیوم کاکڑ، شہید وکلاء کے لواحقین او ر وکلاء برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی شہدائے 8اگست کی یاد میں منعقد ہ تقریب میں شہداء ایوارڈز بھی تقسیم کئے گئے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 8اگست کو پیش آنے والا سانحہ ہر حوالے سے قابل مذمت اور باعث تشویش ہے جس میں نہ صرف وکلاء رہنماء شہید ہوئے بلکہ دیگر شہری بھی لقمہ اجل بن گئے اس واقعے نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو غمزدہ کرکے رکھ دیا انہوں نے کہا کہ سانحہ8اگست ایک بہت بڑا واقعہ تھا جس کی یادیں کبھی فراموش نہیں ہوسکتیں اس حادثے نے ہر شخص کو خون کے آنسو رلایا واقعے میں شہید ہونے والے وکلاء اور دیگر شہریوں کی یاد ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی اس واقعے نے ہم سے بہت قیمتی جانیں چھینیں جن کا خلاء کبھی پر نہیں ہوسکے گا یہ وہ لوگ تھے جو تعلیم کے ہتھیار سے لیس تھے اور معاشرے کے لئے کچھ کرگزرنے کا عزم رکھتے تھے ان کی شہادت کسی المیئے سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض کی بجا آوری نہیں کی حکومت نے اس واقعے کے تمام پہلوؤں اور تمام محرکات پر غور کی زحمت ہی نہیں کی اور جھٹ سے اس واقعے کو سی پیک کے ساتھ جوڑنے لگے حالانکہ حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ اس حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے اور ایسی حکمت عملی بناتے کہ اس طرح کے واقعات کی موثر روک تھام ممکن ہوسکے مقررین نے صوبائی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے شرکاء کے سامنے مختلف سوالات رکھتے کہا کہ اس واقعے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تشکیل دیئے گئے جوڈیشل ٹریبونل کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کی گئیں جس سے شہداء کے لواحقین اور عام عوام میں مزید مایوسی اور بے چینی پھیل گئی ۔انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال کا واقعہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ یہ آخری واقعہ تھا اس کے بعد بھی پی ٹی سی اور شاہ نورانی کے واقعات پیش آئے اگر ہمیں اس طرح کے واقعات کی راہ روکنی ہے تو اس کے لئے سب سے زیادہ بنیادی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں ان فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا جو اس کڑے وقت میں ان پر عائد ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم باریک بینی سے تمام حالات وواقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں اور سیاسی جماعتوں کو اس امر پر مجبور کریں کہ وہ ہمارے آنے والے کل کے لئے شخصیات اور ذاتیات سے بالا تر ہوکر اجتماعی نوعیت کے فیصلے کریں ۔ تقریب میں شہید باز محمد کاکڑ ،قاہر شاہ ، عسکر خان ، داؤ د خان کاسی ، بلا ل کاسی ، سنگت جمالدینی ، بشیر احمد زہری ، اشرف سلہری سمیت تمام شہداء کے رشتہ داروں کو نوابزادہ امین جوگیزئی ، شکور خان کاکڑ،عبیداللہ عابد اور دیگر شخصیات کے ہاتھوں حبیب نور ایوارڈز دیئے گئے ٗخالد خان کاکڑ کو ورلڈ پشتو فورم کی جانب سے پشتونوالہ ایوارڈ دیا گیا جبکہ تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔