ڈیرہ مراد جمالی : بی این پی کے سابق ایم این اے میر عبدالرؤف مینگل اور سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ ترقی کے بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود آج بھی نصیرآباد ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر میں طالبات گزلز کالج کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے ایری گیشن کی ورکشاپ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاکہ نصیرآباد ڈویژن سے مخصوص نشتوں میں دو خواتین رکن صوبائی اسمبلی بھی ہیں صوبے کے 25 لاکھ بچے حصول تعلیم سے محروم ہیں صحت تعلیم اور صوبے کے عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں پٹ فیڈر کینال سے نصیرآباد کے عوام کو پانی نہیں مل رہا کوئٹہ کے عوام کو کس طرح ملے گا اربوں روپے صوبے کے ضیائع اور کرپشن کی نذر کیئے جارہے ہیں وہ گذشتہ روز ڈیرہ مرادجمالی میں کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے انھوں نے کہا کہ سی پیک اور مردم شماری بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ مردم شماری سے بلوچ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کروانا بلوچستان کے عوام سے ان کے منہ کا نوالہ چھیننے کے مترادف ہے صوبے کے عوام کا احساس محرومی میں اضافہ ہورہا ہے غربت بھوک وافلاس کے سوا کچھ بلوچستان کے عوام کچھ نہیں ملا سونا چاندی معدنی وسائل سے مالا مال صوبے کے عوام تعلیمی پسماندگی اور پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں صوبے کے 25 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ گوادر کی ترقی اور سی پیک کے بارے میں بہت شور مچایا جارہا ہے جدید دور میں بھی گوادر کے عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ہمارے وسائل بے دردی سے لوٹے جارہے ہیں بلوچستان کے عوام متحد ہوکر تمام سازشوں کو ناکام بنائیں اور کہاکہ نصیرآباد میں تین رکن صوبائی اسمبلی ہونے کے باوجود علاقے اوچ پاور پلانٹ سے بجلی سے بھی محروم ہیں سڑکوں کا نام نشان بھی موجود نہیں ہے اس کے باوجود تحقیقاتی اداروں کی خاموشی باعث افسوس ہے ۔