|

وقتِ اشاعت :   May 9 – 2017

کوئٹہ: صوبائی کوارڈنیٹر ملیریا کنٹرول پروگرام ڈاکٹر کمالان گچکی نے کہا ہے کہ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کالے دانےcutaneous Leismaniasisکے مرض کے تدارک کے لئے تمام وسائل مہیا کر رہی ہے جبکہ ملیریا کنٹرول پروگرام اس حوالے سے آئندہ آنے والے وقتوں میں پی سی ون کے ذریعے تمام ویکٹر باونڈ مچھر کے کاٹنے کے تمام اشکال جن میں چکن گونیا، ڈینگی ، لیشو منسا نسر، کانگو کو بھی اپنے پروگرام میں وسعت دی جائے گی اور اسکے تدارک کے لئے تمام وسائل بھی مہیا کر یں گے۔ یہ بات انہوں نے محکمہ صحت حکومت بلوچستا ن ملیریا کنٹرول پروگرام و عالمی ادارہ صحت کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کیافتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے نیشنل پروفیشنل آفیسر ڈاکٹر داود ریاض بلوچ ، ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ ، ڈاکٹر عارف منیر ، مختیاراحمد بلوچستان کے دس اضلاع کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی موجود تھے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے نیشنل پروفیشنل آفیسرڈاکٹر داود ریاض بلوچ نے کہا کہ cutaneousLeismaniasisکے مرض کی تعداد بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بہت زیادہ ہے جس میں پچھلے پانچ سالوں کے اعداد شمار کچھ یوں ہیں۔کوئٹہ میں 2339مریض اس مرض کا شکار ہوئے ،ضلع قلعہ عبداللہ میں 2132،ضلع سبی میں1179،ضلع لسبیلہ میں1000، خضدار میں 685 ،نصیر آباد میں 391،جھل مگسی میں373،کیچ میں268،گوادر میں243،پنجگور میں208 ،جعفر آباد158،پشین میں118،قلات میں116،آواران میں107،بولان میں68 اور زیارت میں 52مریضوں میں اس مرض کی تشخیص کی گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے انہیں ادویات فراہم کی گئی ہیں کیونکہ پاکستان میں اس مرض کی ادویات کی اب تک رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے جسکو فالفور رجسٹریشن کی استعداء4 کی جاتی ہے علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت ویکٹر باؤنڈ مچھر کے کاٹنے کے تمام امراض پر قابو پانے کیلئے وسائل مہیا کررہاہے۔تقریب کے شرکاء4 کو دیگر مقررین نے بتایا کہ اس مرض میں خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں جوکہ سینڈ فلائی مچھر کے کاٹنے سے وبائی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے احتیاطی تدابیر میں مچھر دانیوں کا استعمال ،دن کے ا وقات میں چہرے اورجسم کے دیگر حصوں کو ڈھانپ کر رکھنے متواتر اسپرے کرنے اور دیگر اس جیسی احتیاطی تدابیر سے اس کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے ٹریننگ کے شرکاء4 پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کمیونٹی کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کے تحت آگاہی مہیا کریں۔