|

وقتِ اشاعت :   July 14 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ این اے 260 کے ضمنی انتخابات شفاف ہوئے تو ہم کامیاب ہوجائے گئے عوامی مینڈیٹ ہماری جماعت کے پاس ہے اور ہم عوام کی طاقت سے بھر پور کامیابی حاصل کرینگے۔

حکومت میں شامل پشتون اور بلوچ قوم پرست جماعتیں اپنے اور اتحادی جماعت کے امیدوار کو کامیاب بنانے اور ہمارا راستہ روکنے کے لئے سرکاری مشینری بے دریغ استعمال کررہی ہیں،پارٹی نے الیکشن کمیشن کو صورتحال سے آگاہ کردیاہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو مینگل قومی تحریک کی جانب سے بی این پی کے امیدوار میر بہادر خان مینگل کی حمایت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر مینگل قومی تحریک کے سربراہ میر ہدایت اللہ مینگل اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کے قائم مقام صدر عبداللہ جان کاکڑسمیت دیگر وقبائلی رہنماء بھی موجود تھے۔

قبل ازیں مینگل قومی تحریک کے سربراہ میر ہدایت اللہ خان مینگل نے این اے260 پر بی این پی کے امیدوار میر بہادر خان مینگل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مینگل قومی تحریک کا اجلاس ان کی صدارت میں ہوا،

جس میں بڑی سوچ وبچار کے بعد 15جولائی کو ضمنی الیکشن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار میر بہادر خان مینگل کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا اور کوئٹہ سمیت پورے حلقے میں تحریک کے کارکن انتخابات میں بھر پورط حصہ لیں گے۔

اس موقع پرمسلم لیگ فنکشنل کے قائم مقام صوبائی صدر عبداللہ جان کاکڑ،انجینئر احمد خان کاکڑ،اور دیگر بھی بی این پی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا،

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہاکہ مینگل قومی اتحاد اور پاکستان مسلم لیگ (ف) نے ہمارے امیدوار کی حمایت کرکے اچھا اور بروقت فیصلہ کیا جس پر ہم مبارکباد دیتے ہیں امید ہے کہ ان کی حمایت کے بعد ہم عوام کی طاقت سے کامیابی حاصل کرینگے۔

انہوں نے کہاکہ الیکشن کے حوالے سے ہمارے جو خدشات اور تحفظات ہیں وہ آج بھی برقرارہیں اور اس سلسلے میں ہم نے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کردیا ہے صوبائی حکومت میں شامل بلوچ اور پشتون جماعتیں اپنے اور اتحادی جماعت کے امیدوار کو کامیاب بنانے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کررہی ہیں۔

سیاسی اور جمہوری سوچ رکھنے والے جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جو نیک شگون نہیں ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے،اور انتخابات میں دھاندلی کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔

دریں اثناء ٹینکی لیکس کو بی این پی فوبیا ہو چکا ہے انہیں اپنی سیاسی موت نظر آ رہی ہے جس کے باعث وہ پارٹی قیادت پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں پارٹی میں جوق در جوق عوام کی شمولیت ، انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کی عوامی قربت سے یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ کرپٹ ، ٹینکی لیکس والے ناکام حکمرانوں کے چہرے عوام نے پہچان لئے ہیں۔

کمیشن کے حصول کیلئے حکمران ہمیشہ سرکرداں رہے ہیں سیاست کو انہوں نے ہمیشہ کاروبار بنا کر رکھا عوام جان چکی ہے کہ بی این پی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بڑی سیاسی قوت ہے ۔

ان خیالات کا اظہار کلی چلتن رئیسانی مغربی بائی پاس میں ٹکری ساول خان رئیسانی کی سینکڑوں ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت ، بروری میں نیشنل پارٹی سے سینکڑوں لوگوں کی پارٹی میں شمولیت ، کشمیر آباد کمالو ، نیچاری اسٹیریٹ کیچی بیگ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں پروگرامز سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، فنانس سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، اختر حسین لانگو ، غلام نبی مری ، حاجی بابا جان شاہوانی ، عزیز اللہ شاہوانی ،میر نذیر کھوسو ، میر غفور مینگل ، رؤف مینگل ، یونس بلوچ ، میر غلام رسول مینگل ، علی احمد قمبرانی ، آغا خالد شاہ دلسوز ، شوکت بلوچ ، حاجی باسط لہڑی ،ملک فاروق شاہوانی ، احمد نواز بلوچ ، خالد حسین لہڑی ، ٹکری ساول رئیسانی ، عبدالحئی کھیازئی عوامی نیشنل پارٹی کے عصمت اللہ خان بڑیچ ، غلام سرور لہڑی نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ٹکری شکور لہڑی ، ناصر بلوچ ، الف الدین کرد ، نذیر مینگل ، غفار مینگل ، محمد انور بنگلزئی ، نور خان کھیازئی ، حکیم سرپرہ ، ظہور احمد محمد حسنی ، حمید کھیازئی ، عادل شاہوانی ، شکیل بلوچ و دیگربھی موجود تھے ۔

مقررین نے کہا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی پارٹی میں شمولیت انتخابی مہم کے دوران بڑے اجتماعات اور جلسوں کی کامیابی عوام کی قربت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی کو نجات دہندہ پارٹی تصور کر لیا گیا ہے ٹینکی لیکس کو عوام نے مسترد کر دیا ہے جو عوام کے حقوق کیلئے نہیں بلکہ اپنی مفادات کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں ۔

اب حکمرانی کے چند دن رہ گئے ہیں اب بلند و بالا دعوے کرنے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے نااہل کمزور حکمرانی کے دور میں انہوں نے عوام کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیا یہاں تک کہ آج بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے آگے صوبائی حکومت بے بس ہے طلباء کے مسائل تک حکومت حل نہیں کر سکتی چار سال میں بلوچستان کے عوام کو پسماندہ رکھا گیا ہے ۔

عوام مسائل سے دوچار ہیں بلوچستان کے عوام کسمپرسی کا شکار ہیں آج بھی دعوؤں سے کام لیا جا رہا ہے ٹینکی لیکس کو بی این پی فوبیا ہو چکا ہے انہیں اپنی سیاسی موت نظر آ رہی ہے جس کے باعث وہ پارٹی قیادت پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں ۔

عوام جانتے ہیں کہ موجودہ حکمران صرف کرپشن کی بدولت ارب پتی بن گئے ہیں بروری میں نیشنل پارٹی سے مستعفی ہونے والوں میں حاجی شفیق لہڑی ، منیر احمد بلوچ ، شیر احمد بلوچ ، حاجی قیصر خان ، آصف بلوچ ، غلام حسین بلوچ ، نذیر مینگل ، نصیر احمد رئیسانی ، عمران رند ، غفار آصف ، اسماعیل بلوچ ، عبدالرؤف ، عبدالمنان ، نوید رئیسانی ، بلاول لہڑی ، نعمان لہڑی ، ٹکری عبدالسلام ، عبدالحمید ، بسم اللہ سمیت درجنوں افراد شامل ہیں ۔