|

وقتِ اشاعت :   October 18 – 2017

نوشکی : نیشنل پارٹی ضلع نوشکی کے کارکنوں کا ایک اہم اجلاس نثار احمد بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوا ، جس میں نیشنل پارٹی کی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ 

اجلاس میں صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے صوبہ بھر بلخصوص ضلع نوشکی میں صحت کے محکمے میں سو سے زاہدمختلف خالی آسامیوں پر میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی کو یقینی بنا کرتاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائیگا ۔

اجلاس میں نئے ڈی ایچ او نوشکی کی تعیناتی کو سراہتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سابقہ ڈی ایچ اوایک جونےئر اور نا کیڈر شخص کو بنایاگیا تھا جس سے نوشکی میں صحت کے محکمہ کی انتظامی امور کو چلنے میں مشکلات پیش آ رہے تھے جس کا عدالت عالیہ نے از خود نوٹس لیا تھاکیونکہ ڈی ایچ او نوشکی کا پوسٹ کافی عرصے سے خالی تھا چارج پر چل رہا تھا۔ 

نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے نیشنل پارٹی کے چند مقامی رہنماؤں کی جانب سے وزیر صحت رحمت بلوچ اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء کے خلاف اخباری بیانات اور شوشل میڈیا میں چلائی جانے والی پروپیگنڈے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے پارٹی ڈسپلن اور پالیسی کے برخلاف قرار دیا۔ 

اجلاس میں کارکنوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت اور خاص میر حاصل خان بزنجو پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے درخواست کی کہ نیشنل پارٹی نوشکی ضلع کو گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں کتنے اسیکیمات اور کن کن پارٹی رہنماؤں کو فراہم کیے گئے ہیں ان کو سامنے لایا جائے ۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بطور وزیراعلیٰ اسٹوڈنٹس سکالرشپ اور مریضوں کے علاج و معالجے کی مد میں لاکھوں روپے فراہم کئے جس میں نیشنل پارٹی کے چند مقامی رہنماؤں نے آپس میں بندر بانٹ کر کے حقداروں کو ان کے حق سے محروم رکھا۔ ورکنوں نے نے مرکزی قیادت سے اپیل کی کہ ضلع نوشکی میں کروڑوں روپے لاگت کے اسیکیمات جن میں ٹیوب ویلز، پائب لائن، ٹرانسفارمرز، تلاب اور بلڈوزر کے گھنٹے فراہم کی ہیں ۔

ان کی مکمل چھان بین کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے جو سراغ لگا کر حقائق ورکروں کے سامنے لائیں تاکہ پارٹی کے کارکنوں میں جاری بے چینی او ر ابہام کو ختم کیا جاسکے کیونکہ پارٹی میں چند بندوں کی من مانی سے مجیب بلوچ جیسے نیشنل پارٹی بانی کارکن نے پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے ۔

جو پارٹی کیلئے نیک شگون نہیں ۔ علاوہ ازیں میر عبدالباقی بادینی اور دوسرے پارٹی ورکروں نے بھی الٹی میٹم دیا ہے کہ نوشکی میں دو بندوں کے بندر بانٹ کی وجہ سے وہ اپنے عہدوں سے بھی استعفیٰ دیں گے۔