کوئٹہ: بلوچستان ریذیڈنشل کالج خضدار کے طلباء نے پرنسپل حاجی محمد عالم جتک اور اساتذہ کے ہمراہ مطالعاتی دورے کے سلسلے میں یہاں بلوچستان صوبائی اسمبلی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ وزراعت سردار اسلم بزنجو، سیکریٹری اسمبلی رحمت اللہ جتک، ایڈیشنل سیکریٹری طاہر شاہ ودیگر حکام بھی موجود تھے۔
طلباء کو صوبائی اسمبلی ہال، لائبریری، میڈیا سینٹر اور پیپس (PIPS) کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری طاہر شاہ نے طلباء کو بتایا کہ صوبائی اسمبلی کا قیام 1972ء میں عمل میں لایا گیا جبکہ بلوچستان اسمبلی کا پہلا اجلاس 2مئی 1972ء کو ہوا جس کے کل 21ارکان تھے اور ایک خاتون ممبر شامل تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ صوبائی اسمبلی کی عمارت جس کا اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے 28اپریل 1987ء کو افتتاح کیا تھا سے پہلے اسمبلی کے اجلاس شاہی جرگہ ہال (ٹاؤن ہال) میں منعقد کئے جاتے تھے۔
انہوں نے طلباء کو بتایا کہ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے پہلے اسپیکر محمد خان باروزئی تھے جبکہ موجودہ اسمبلی کی اسپیکر محترمہ راحیلہ حمید خان درانی ہیں جن کو بلوچستان کی پہلی خاتون اسپیکر کا اعزاز حاصل ہے۔ موجودہ اسمبلی کے ارکان کی تعداد 65ہے۔ طلباء کو اسمبلی کی عمارت کے تاریخی پس منظر کے بارے میں بھی بتایا گیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ سردار محمد اسلم بزنجو نے طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طلباء پاکستان کا مستقبل ہیں ان کی پوشیدہ صلاحیتیوں کو اجاگر کرنے کے لئے موجودہ صوبائی حکومت مؤثر اقدامات کررہی ہے اور ذہین وقابل طلباء وطالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم کے حصول پر مرکوز رکھیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔بعدازاں طلباء نے اسمبلی کی کاروائی ، بجٹ کی منظوری اور کمیٹیز کے بارے میں سوالات کئے۔جس کا اسمبلی حکام نے تفصیلاً جوابات دیئے۔