|

وقتِ اشاعت :   October 26 – 2017

اسلام آباد : ملک بھر میں پانی کی کمی کا مسئلہ سر اٹھانے لگا ،چشمہ بیراج میں پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 36 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 33 ہزار کیوسک جبکہ منگلہ ڈیم پر بجلی کی پیداوار مکمل طور پر بند کردی گئی چشمہ بیراج پر بجلی بنانے کے دسیونٹس بند کردیئے گئے چشمہ بیراج سے صرف ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا نیا دور بھی شروع ہوگیا۔ جڑواں شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ چھ گھنٹے سے زیادہ ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پانی کی قلت ہے اور ربی اور گندم کی پیداوار کیلئے بیس فیصد پانی کم ہے ۔ اگر پانی کو ابھی سے نہ روکا گیا تو پھر گندم کی فصل کیلئے پانی نہیں ہوگا اور مسائل بڑھ جائیں گے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ صرف تین ہزار میگاواٹ رہ گیا ہے جبکہ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ صرف دو ہزار کیوسک ہے۔

ہیڈ تریموں سے پانی کا بہاؤ ایک ہزار میگاواٹ ہے ذرائع کا کہنا ہیکہ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ہائیڈرو پاور سے بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور تربیلا سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر بند کردی گئی ہے جبکہ چشمہ سے صرف ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو پھر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کو کافی تشویش کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے آئندہ دو ماہ میں لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کے حوالے سے اعلان بھی کیا ہے اور جس کیلئے ایک بجٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے اور اس حوالے سے عالی شان تقریب بھی منعقد کی جائے گی حکومت لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے حوالے سے تربیلا فور کا بھی آغاز کر چکی ہے لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی بے سود ہے۔