کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ نہیں ہونے دیں گے ہم اپنے ہم خیال گروپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے کوشش کرینگے آصف علی زرداری مقبول لیڈر ہے ۔
انکی عزت کرتاہوں سینیٹ انتخابات میں امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ حالات کے مطابق کرینگے صوبے میں کینسر ہسپتال تعمیر کیا جائے گا ،15دن میں میڈیکل کالجوں میں باقاعدہ طورپر تدریسی عمل شروع ہوجائے گا۔یہ بات انہوں نے پیر کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے بلوچستان اسمبلی میں مختلف جماعتوں پر مشتمل ہم خیال گروپ تشکیل دیا ہے ہماری کوشش ہے کہ گروپ متحد رہے اور ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایوان بالا میں بھیجا جائے جو بلوچستان کے حقوق کا ڈٹ کر دفاع کریں اور وفاق سے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے موثر بات چیت کرسکیں ۔
انہوں نے کہاکہ اب تک کسی جماعت کی حمایت کا فیصلہ نہیں کیا وقت اور حالات کے مطابق سینیٹ امیدواروں کی حمایت کرینگے سابق صدر آصف علی زرداری کا جمہوری حق ہے کہ وہ دیگر جماعتوں سے بات کرکے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کروانے کیلئے کوشش کریں ۔
ہماری اپنی جماعت کے مرکزی صدر اور اعلی قیادت سے بھی بات چیت ہورہی ہے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی ہم ایسے لوگوں کو منتخب کرینگے جو صوبے کیلئے کام کریں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی سے کوئی دوریاں نہیں ہیں وہ میرے بھائی ہیں ان سے دل سے محبت کرتاہوں اور یہ انہی کی قربانی اور جددجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ہم نے جو درخت لگایا ہے وہ مضبوط ہورہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب میں بلوچستان کے طلباء کے مسائل کے حل کیلئے جو کمیٹی بنائی تھی اس نے تمام مسائل کو حل کردیا ہے میری طلباء کو بھی تجویز ہے کہ وہ جس مقصد کیلئے پنجاب گئے ہیں اسے حاصل کریں اور صوبے کی بھر پور خدمت کرنے کیلئے آگئے آئیں ۔
انہوں نے کہاکہ سیف سٹی منصوبے پر کام جلد شروع ہوجائے گا صوبے میں کینسر ہسپتال اور میڈیکل کالجز کا بھی باقاعدہ افتتاح آئندہ چند روز میں ہوجائے گا جبکہ نوجوانوں کیلئے ایک خصوصی پیکج بھی لارہے ہیں جس کا اعلان آنیوالے دنوں میں کیا جائے گا ۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلی سیکرٹریٹ کسی کی میراث یا جائیداد نہیں یہ عوامی دفتر ہے وزیراعلی کا فرض ہے کہ وہ عوامی خدمت کریں اور میں بھی انہی اصولوں پر گامز ن ہوں ڈپٹی کمشنر ز کوہدایت کی ہے کہ وہ بھی ضلعی سطح پر کھلی کچہریاں منعقد کریں تاکہ عوامی مسائل جلد از جلد حل ہوں ۔
انہوں نے کہاکہ ہم قلیل مدت میں میگا پروجیکٹ تو نہیں دے سکتے لیکن 20دن بعد عوام کو خود تبدیلی محسوس ہورہی ہے کوشش ہے کہ جتنی مدت ملی ہے اس میں جو بھی مسائل حل ہوسکیں وہ کردیں تاکہ آئندہ آنیوالوں کیلئے ایک مثال ہو کہ انہوں نے عوام کے مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہیں۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی و استحکام بلوچستان کی ترقی واستحکام سے وابستہ ہے۔ نوجوان قوم کے اثاثہ ہیں ان کواعلیٰ ومعیاری تعلیم ،پرامن ماحول اور بہترین مواقعوں کی فراہمی کے لئے حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
طلباء وطالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اصل مقصد انہیں حساس دلانا ہے کہ حکومت ان کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہے اور ہمیں ان سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم کشمیرکے موقع پر وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے طلباء و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزراء اراکین اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان ،صوبائی سیکرٹریز اور سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کی تقریب کشمیریوں کے نام کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ ہمارا سفارتی اور اخلاقی تعاون کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو دیکھ کر مجھے بے انتہاخوشی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ آپ اس صوبے اور ملک کا مستقبل ہیں ، آپ سی بہت سے امیدیں وابستہ ہیں، آپ نے ملک اور صوبے کو مختلف شعبوں میں آگے لیجانا ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت حصول تعلیم پرخرچ کر کے دل لگاکرمحنت کریں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے سی پیک کی صورت میں صوبے میں بے شمار ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے معیاری تعلیم حاصل کر کے ہمارے نوجوانوں نے ان منصوبوں میں بھر پور حصہ لے کران کو کامیاب کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چند منفی عناصر جو نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارا صوبہ ترقی کرے ہماری یوتھ کو ورغلا کر تباہی کی طرف لیجانا چاہتے ہیں لیکن ان کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہمارا صوبہ اور ملک ترقی کریگا اور دشمن کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑئیگا۔ نوجوانون کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں تمام شعبوں میں ترقی کرنا ہے اور ترقی کے اس خواب کو ہم اس وقت عملی جامہ پہنا سکتے ہیں جب ہم حصول تعلیم کو اپنا شعار بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میں تبدیلی کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا اور صوبے میں خوشحالی لانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نوجوانوں کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے دورازے عوام کے لئے کھلے ہیں ، کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل کو فوری حل کرنا ہے ہمارا عزم ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے ، کوئٹہ شہر کو صاف ستھرا بنا کر اس کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے سے بے روزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ،مختلف محکموں میں بھرتیوں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو مقدم رکھا جائیگا تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے طلباو طلبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔تقریب میں بلوچستان یوتھ موبلائزیشن کیمپین کے تحت 450طلباء وطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے۔