کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے ارباب کرم خان روڈ شاہ زمان اسٹریٹ میں نامعلوم دہشتگردوں نے رکشے پر فائرنگ کرکے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو قتل اور بارہ سالہ بچی کو زخمی کردیا۔
مرنے والوں میں دو بھائی ،ان کا بہنوئی اور بھابھی شامل ہیں۔فائرنگ میں مرنیوالی خاتون کا شوہر واش روم جانے کی وجہ سے محفوظ رہا۔ مقتولین ایسٹر پر رشتہ داروں سے ملنے پنجاب سے کوئٹہ آئے تھے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیر کی شام کوئٹہ کے تھانہ سریاب کی حدود میں ارباب کرم خان روڈ پر شاہ زمان اسٹریٹ نیشنل کالونی میں پیش آیا جہاں نامعلوم دہشتگردوں نے ایک رکشے پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں رکشے میں سوار ڈرائیور سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ سے رکشہ ڈرائیور کی بارہ سالہ بیٹی شیریں بھی زخمی ہوئی۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والے پانچوں افراد کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولین میں پچاس سالہ رکشہ ڈرائیور پرویز مسیح ولد سیمول مسیح ،35 سالہ طارق ولد یونس اور اس کا 25 سالہ بھائی عمران اور ان کی بھابھی تیس سالہ خاتون فردوس شامل ہیں۔
طارق، عمران اور فردوس کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرانوالہ سے بتایا جاتا ہے۔ لاشوں اور زخمی بچی کو سول ہسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر علی مردان کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کو انتہائی قریب سے سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔
زخمی بارہ سالہ بچی سحر پرویز کو دائیں ٹانگ پر ایک گولی لگی ہے اس کی اور حالت خطرے سے باہرہے۔ انہیں ٹراما سینٹر میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
مقتول پرویز مسیح کے بہنوئی طارق مسیح نے سول ہسپتال میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پرویز مسیح کے تین سالے امانئیل، طارق اور عمران اپنی بہن سے ملنے اور ایسٹر منانے پنجاب سے کوئٹہ آئے تھے۔ امانئیل اپنے ہمراہ اپنی اہلیہ فردوس کو بھی لیکر آیا تھا۔ کل انہوں نے ایسٹر کا تہوار منایا اور آج وہ ہمارے گھر کھانا کھانے آئے تھے۔
کھانا کھانے کے بعد چاروں مہمان پرویز کے ساتھ اس کے رکشے میں گھر سے باہر بازار کیلئے نکل رہے تھے۔ امانئیل بھی ان کے ہمراہ تھا تاہم وہ حاجت پوری کرنے کیلئے واش روم گیا۔
اس دوران گھر کے باہر شدید فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ جیسے ہی ہم باہر نکلے تو پرویز اور ان کے تینوں مہمان خون میں لت پت زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں۔
ایس پی سریاب نور احمد رند کے مطابق اب تک فائرنگ کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ مقتول کے لواحقین بتارہے ہیں کہ ان کی کسی کے ساتھ تنازع نہیں۔ ابتدائی طور یہی لگ رہا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہے تاہم پولیس مختلف پہلوؤں پر تفتیش کررہی ہے۔
جائے وقوعہ سے پولیس کو نائن ایم ایم پستول کے دس کے قریب خول ملے ہیں۔ پولیس کے مطابق کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی بیشتر وارداتوں میں نائن ایم ایم ہتھیار کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
دریں اثناء کوئٹہ کے علاقے قمبرانی پر بنگلزئی قبیلے کے دو گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں قبائلی رہنماء اور لیویز اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے۔ سبی روڈ پر فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں بھی ایک شخص مارا گیا۔
پولیس نے قمبرانی روڈ پر فائرنگ کے واقعہ کا مقدمہ رکن قومی اسمبلی سردار کمال بنگلزئی اور ان کے حامیوں کے خلاف درج کرلیا۔پولیس کے مطابق پیر کو دوپہر کے وقت کوئٹہ کے علاقے تھانہ کیچی بیگ کی حدود میں قمبرانی روڈ پر کلی ساتکزئی کے قریب بنگلزئی قبیلے کے دو گروہوں میں قبائلی دشمنی اور زمین کے تنازع کی بناء پر تصادم ہوا جس کے دوران فائرنگ سے ایک گروہ کے چار افراد ہلاک اور ایک زخمی جبکہ دوسرے گروہ کا ایک شخص ہلاک ہوا۔
تفصیل کے مطابق بنگلزئی قبیلے کے رہنماء 60 سالہ ٹکری غلام رسول ولد حسن خان بنگلزئی بولان کے علاقے کھجوری سے اپنے بیٹے اور ساتھیوں کے ہمراہ کوئٹہ آرہے تھے یہاں انہوں نے سردار نور احمد بنگلزئی کی دستار بندی کرنا تھی تاہم قمبرانی روڈ کے مقام پر میر ظاہر خان بنگلزئی نے انہیں سردار نور احمد بنگلزئی کی دستار بند کرنے سے روکا۔ انہیں منانے کی کوشش کی۔
اس دوران تلخ کلامی ہوئی تو دونوں گروہ آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ اچانک فائرنگ شروع ہوئی۔
اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر ٹکری غلام رسول اس کا چالیس سالہ بیٹا عبدالحمید اورستائیس سالہ بشیر احمد ولد عبدالوہاب بنگلزئی جاں بحق جبکہ تیرہ افراد زخمی ہوگئے۔
دوسرے گروہ میں ایک شخص لیویز اہلکار نوید احمد ولد لونگ خان بنگلزئی ہلاک ہوا ہے۔ لیویز اہلکار کی لاش سول ہسپتال پہنچائی گئی جبکہ باقی لاشوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ایک اور زخمی امان اللہ ولد حفیظ اللہ بنگلزئی بھی دم توڑ گیا۔ اس طرح واقعہ میں ہلاک افراد کی تعداد پانچ ہوگئی۔
زخمیوں میں پچیس سالہ موسیٰ خان ولد راوت خان، پچاس سالہ پیر محمد ولد بہاول خان، بائیس سالہ ماچھی کان ولد ولی خان، پینتیس سالہ شیر احمد ولد گل شیر، بائیس سالہ حیدر خان ولد محمد حسن، ستائیس سالہ عبدالمجید ولد شربت خان، بتیس سالہ محمد قاسم ولد نوکاز، بائیس سالہ عبدالرحمان ولد محمد عالم، پچیس سالہ محمد یوسف ولد اکبر علی ، پینتیس سالہ عطاء اللہ ولد حفیظ، خیر محمد ولد گل محمد اور رفیق ولد گل شیر شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق لیویز اہلکار نوید احمد میر ظاہر خان بنگلزئی کا محافظ تھا۔ ان کی تدفین مستونگ کاریز میں کردی گئی۔ باقی چاروں مقتولین کا تعلق سردار نور احمد بنگلزئی کے ٹکری غلام رسول گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
سردار نور احمد بنگلزئی کی قیادت میں مقتول کے لواحقین نے چار افراد کی میتیں زرغون روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب عبدالستار ایدھی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ اس دوران ٹریفک کی آمدروفت معطل ہوگئی۔
مظاہرین نے اپنے مخالف کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ فائرنگ کرنے والے افراد اور ان کی سرپرستی کرنے والے رکن قومی اسمبلی کو مقدمہ میں نامزد کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ فرخ عتیق اور ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ پولیس نصیب اللہ خان کی جانب سے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا اور میتیں لیکر آبائی علاقے بولان کجھوری روانہ ہوگئے۔
ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے سردار نور احمد بنگلزئی نے رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی ، ظاہر بنگلزئی اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹکری غلام رسول مسائل حل نہ پر میرے پاس آرہے تھے ۔
اس دوران کمال بنگلزئی نے اپنے بندے بجھواکر انہیں روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر فائرنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ یکطرفہ ہوئی۔ ٹکری غلام رسول اور ان کے ساتھیوں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔ لیویز اہلکار بھی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے۔دوسرے گروہ کا مؤقف ہے کہ مخالفین نے لیویز اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی اور فائرنگ کی ۔
تھانہ کیچی پولیس نے چار افراد کے قتل اور بارہ افراد کے زخمی ہونے کا مقدمہ رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی، میر ظاہر بنگلزئی اورعمران بنگلزئی سمیت دیگر کے خلاف درج کرلیا ۔
ایس ایچ او تھانہ کیچی بیگ کے مطابق قتل ہونیوالے پانچویں شخص یعنی لیویز اہلکار کے قتل کے مقدمے کا اندراج کیلئے اب تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق تصادم کی وجہ بولان کے معروف تفریحی مقام پیر غائب کی زمین کی ملکیت کا تنازع ہے۔
ادھر کوئٹہ کے علاقے سبی روڈ پر فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں محمد اعظم لانگو ولد میر ہزار خان سکنہ سبی روڈ کوئٹہ نامی شخص جاں بحق ہوا۔ لاش سول ہسپتال پہنچائی گئی۔ ڈاکٹر کے مطابق مقتول کو سر اور جسم کے مختلف حصوں میں چھ گولیاں ماری گئی ہیں۔
نیو سریاب پولیس کے مطابق قتل کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ مقتول کے لواحقین نے بھی اب تک مقدمے کے اندراج کیلئے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔