|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2018

کوئٹہ: محکمہ معدنیات کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع سکندر آباد سوراب میں حادثے کا شکار ہونیوالی کوئلہ کان سے غیرقانونی طور پر کوئلہ نکالا جارہا تھا۔

سکندر آباد (سوراب) کے علاقے سیاہ کمب کے ایک کوئلہ کان میں گزشتہ شب گیس بھر جانے سے چھ مزدور جاں بحق ہوگئے تھے جن میں سے تین مزدوروں کا تعلق سوراب جبکہ تین کا تعلق کوئٹہ کے علاقے نواں کلی سے بتایا جاتا ہے۔

ان کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں۔ چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس علاقے میں کوئلہ موجود ہے ، ہمیں اس کا علم ہی نہیں تھا ۔

محکمہ معدنیات کے شعبہ ڈی ایم ڈی نے کوئلہ کی تلاش کیلئے سابق وزیراعلیٰ کے بھائی کو لائسنس جاری کیا تھا تاہم یہ لائسنس کوئلہ کانکنی کیلئے نہیں تھا۔ کانکنی کیلئے الگ سے لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اگر کان سے کوئلہ نکالا جارہا تھا تو یہ لائسنس کے بغیر اور غیر قانونی تھا۔