کوئٹہ: بلوچستان میں صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں بے لوث خدمات پر نامور صحافی صدیق بلوچ اور پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ایجوکیشن میں بلوچ طلباٍء ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔
تقریب میں صحافت اور تعلیم کے شعبوں سے منسلک اساتذہ اور صحافیوں سمیت طلباوطالبات شریک تھے ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہر تعلیم پروفیسر اکرم دوست ، کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن ،طلباء ایکشن کمیٹی کے چیئرمین رشید کریم بلوچ، پروفیسر برکت اسماعیل، پروفیسر سنگت رفیق بلوچ، پروفیسر منظور بلوچ، پروفیسر ناصر کھیازئی،صدیق بلوچ کے فرزند صادق بلوچ، ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی کے صاحبزادہ دین محمد رئیسانی سمیت دیگر کا خطاب کیا
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لیاری اور ووڈھ کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی قدآور شخصیات کی صحافت سیاست اور تعلیم کے شعبوں میں نصف صدی پر محیط خدمات کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھا جائیگا۔
قلم اور علم کو فروغ دیکر عوام کے لیے جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصدبنانے والے صدیق بلوچ اور رسول بخش رئیسانی بڑی شخصیات تھے۔
ان کی پوری زندگی عملی جدوجہد سے عبارت ہے انہوں نے سیاست ،صحافت اور تعلیم کے میدان میں اپنے نام کا لوہا منوا کر صوبے کو یہ اعزاز بخشا ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ خود میں انجمن اور عملی جدوجہد پر یقین رکھنے والے صدیق بلوچ اور ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی نے جیونی سے کراچی ، ڈیرہ غازی خان سے تفتان تک کے صوبے کے کونے کونے میں علم کو پروان چڑھایا اوراپنے سینے میں موجودذخیرہ علم کی روشنی سے ہزاروں افراد کو منور کیا ہے ۔
آاج پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پرانکے ہزاروں شاگرد صحافت سمیت دیگر شعبوں میں اپنے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ نے 50سال صحافت اور ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی نے 37 سالوں تک بلوچستان میں صحافت اورتعلیم کوفروغ دے کر صوبے میں کی ترقی خوشحالی اور پسماندگی کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کو جلا بخشی اب بلوچستان کے عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انکے افکار ، نظریہ اور سوچ کو اپناتے ہوئے ان کی روشن کی گئی شمع کو بجھنے نہ دیں ۔