|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2018

کوئٹہ: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک کے نظام عدل میں پائی جانے والی خامیوں پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا تاثر تودے رہے ہیں لیکن انصاف ہوتا ہو انظر نہیں آرہا ،لوگ نظام سے بدظن ہورہے ہیں۔

وہ آدمی جو حق کیلئے لڑرہا ہے اور چالیس سال سے اسے انصاف نہیں مل رہا کیا وہ ہرروز جیتا اور مرتا نہیں،بدعنوان، غیرجانبدار اور نا اہل عدلیہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی معاشرے اور ملک کیلئے ایک عذاب ہے ،عدلیہ اور جج صاحبان کو بدعنوان نہیں سمجھتا لیکن شدت سے محسوس کرہا ہوں کہ ہم اپنی اہلیت، معیار اورصلاحیتوں کو صحیح معنوں میں استعمال نہیں کررہے ،شاید وسائل شوق اور جذبے کی کمی ہے ۔

انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے ذمہ دار ہم سب ہیں،اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کا وقت آگیا ہے عدل کی بنیادوں کو مضبوط نہ کیا تو آئندہ آنے والی نسلوں کے گنہگار ہوں گے۔وہ کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی اور ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان شریک تھے۔ 

تقریب بلوچستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، فیملی ججز اور قاضیوں میں گاڑیوں کی چابیاں تقسیم کی گئیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ سول مقدمات کو نمٹانے میں کس طرح پندرہ پندرہ سال لگتے ہیں۔

حیران ہوں کہ وہ قابل ججز کہاں گئے جو ہاتھ سے ایسے فیصلے لکھتے تھے جو سپریم کورٹ تک برقرار رہتا تھا،اس بات پر بھی حیرت ہے کہ سپریم کورٹ تک آنے والے بہت سے مقدمات میں بنیادی قانون ، ضابطوں اور اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ججز کو اپنی حدود ، رائج قوانین، اصولوں اور ضابطوں کا پتہ ہونا چاہیے ۔

فیصلوں میں کوئی سقم اور قانونی کمی ہے تو غلط فیصلوں کی ذمہ داری ایگزیکٹیو یا کسی اور پر نہیں ، صرف اور صرف ہم پر عائد ہوتی ہے ۔ریاست کے ملازمین میں ہم سب سے زیادہ مراعات یافتہ ہیں ،ٹیکس کنندگان تنخواہوں کی صورت میں ہمیں ادا کررہے ہیں ہم نے اس کا جواز پیش کرنا ہے۔

حکومت کی طرف سے عدالتی نظام کیلئے درکار وسائل اور سہولیات میسر نہ ہونے کے باوجود ہم انصاف سے پہلو تہی نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ جج صاحبان مرضی کے فیصلے نہیں کرتے، انہیں آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے اورقانون سازی نہ ہونے کی وجہ اب بھی اٹھارہویں صدی کے قوانین رائج ہیں۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں باقاعدہ طور پر عدالتی اور قانونی اصلاحات کا آغاز بلوچستان سے کررہا ہوں ۔عدلیہ ریاست کا ایسا عضو اورادارہ ہے جس کے بغیر ریاست کا وجود نہ صرف نامکمل بلکہ ریاست کا تصور ہی ممکن نہیں۔ 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ کفر کا معاشرہ چل سکتا ہے لیکن ظلم اور نا انصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔ بدعنوان، غیرجانبدار اور نا اہل عدلیہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی معاشرے اور ملک کیلئے ایک عذاب ہے۔ 

چیف جسٹس نے ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان اور افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ انصاف کے حصو ل کیلئے سب سے پہلے آپ کے در پر حاضر ہوتے ہیں ۔

میں عدلیہ کے اپنے دوستوں کے بارے میں کبھی یہ نہیں سوچتا کہ وہ بدعنوان ہیں لیکن یہ ببانگ دہل کہتا ہوں کہ میں اس بات کو شدت سے محسوس کررہا ہوں کہ ہم لوگ شاید اہلیت،معیار اور صلاحیت استعمال نہیں کررہے ، ہم عام قاضی نہیں ، ہم وہ قاضی اور ججز ہیں جو اپنے فرائض قانون کے مطابق انجام دیتے ہیں اس لیے آپ کیلئے بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے قانون سیکھیں۔

آپ کو قانون آنا چاہیے، عدلیہ کی حدود ،سپریم کورٹ کے تشریح کردہ قوانین اور وضع کردہ اصولوں کا پتہ ہونا چاہیے۔ اس بات پر حیران ہوں کہ ہمارے وہ قابل ججز کہاں گئے جو ہاتھ سے فیصلے لکھتے تھے ،موتیوں کی طرح لکھائی ہوتی تھی اس میں کبھی کٹائی تک نہیں ہوتی تھی اور ہر معاملے کو حقائق اور قانون کے مطابق پرکھ کر ایسے تدبر اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے تھے جو سپریم کورٹ تک برقرار رہتا تھا۔ 

مجھے اس بات پر حیرت ہورہی ہے کہ بہت سی چیزیں جب سپریم کورٹ میں آتی ہیں جس میں اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔اس بات پر تکلیف ہوتی ہے کہ بنیادی قانون، اصولوں اور ضوابط کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔شاید ہمارے پاس وسائل نہیں اورشاید شوق اور جذبہ نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے شعبے سے منسلک کیا ہے جہاں پر آپ کیلئے عزت بھی ہے ،رزق بھی اور مغفرت بھی اسی کام سے ہوگی۔ انصاف کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس صفت کا اگر آپ کے ذریعے استعمال ہوکر لوگوں کو انصاف میسر آتا ہے تو سوچیں کہ یہ آپ کے درجات کو کہاں سے کہاں لے جائیگا۔

مقدمہ بازی معاشرے کی بیماری ہے جس طرح جسم کی بیماری کا علاج ڈاکٹر کرتا ہے او ر لوگ انہیں مسیحا کہتے ہیں اس طرح معاشرے کی بیماری کا علاج جج کرتے ہیں جو ریاست کے سب سے بنیادی ستون عدلیہ کے پرزے ہیں ۔ 

انہوں نے جج صاحبان کو مخاطب کیا اور پوچھا کہ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ پرزے بہترین طریقے سے تیار ہیں اور بہترین طریقے سے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ہم شاید لوگوں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بالکل انصاف کررہے ہیں لیکن یہ برملا کہوں گا کہ اس شوق ،جذبے اور عبادت کے ساتھ انصاف ہوتا ہوا مجھے نظر نہیں آرہا ۔

آپ کو انصاف کرنا پڑے گا اور آپ کو اس کوشش اور جہاد میں بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا جو ہم نے شروع کیا ہے ،اگر نہیں کرینگے تو پھر آپ اپنے بچوں کے گنہگار ہیں اور آپ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو کچھ نہ دینے کے ذمہ دار ہیں۔ 

اگر آپ انصاف دے کر نہیں جائینگے اور انصاف کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کرینگے تو آپ آئندہ آنے والی نسلوں کا قرض نہیں اتارسکیں گے ۔کیا آپ قرض ادا کئے بغیر بے سکونی میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوں گے ،یہ ممکن نہیں۔ 

میں دو تین چیزوں کو بہت اہمیت دیتا ہوں ایک یہ کہ ہم مقننہ نہیں ہیں اور ہم قانون سازی نہیں کرسکتے ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں کہ ہم1872اور1884کے انگریز دور کے آج رائج رائج قوانین کو تبدیل کرسکیں ۔ ہم نے اسی قانون کے مطابق چلنا ہے اور اسی ضابطہ اور طریقہ کار کی پاسداری کرنی ہے جو 1908ء میں بنایا گیا ہے ، آپ اسی قانون پر عمل پیرا ہوں تو کم از کم فیصلے جلد ہوپائیں گے ۔

کتنے کتنے سال لوگوں کو ٹرائل کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے ،یہ بات بالکل درست ہے کہ کئی مواقع پر تیس تیس ،چالیس چالیس سال لوگ مقدمہ بازی میں پھنسے رہتے ہیں کم از کم ایک تو اس میں ہوگا جو مظلوم ہے جس کا استحصال ہورہا ہے ۔

اس کا کیا قصور اوراس کا کیا گنا ہے جس کا حق بھی مارا گیا ہے جواپنے حق کے حصول کیلئے عدالتوں کے دروازے کھٹکٹھاتاہے اور اسے کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے کون ذمہ دار ہے اس کا ، میں ذمہ دار ہوں قاضی القضاء کی حیثیت سے ، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ ، ٓپ سول ججز اور جوڈیشل آفیسر کی حیثیت سے ذمہ دار ہیں۔ہم کیوں مقدمات کو اتنی طوالت دیتے ہیں۔

انسان کسی پیارے کی موت کو برداشت کرلیتا ہے ،وقت کے ساتھ ساتھ شدت غم کم ہوجاتا ہے اورتکلیف کم ہوجاتی ہے لیکن کیا وہ آدمی جو حق کیلئے لڑرہا ہے اور چالیس سال سے اسے انصاف نہیں مل رہا کیا وہ ہرروز جیتا اور مرتا نہیں۔ ایسے لوگوں کو کس نے انصاف دینا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وسائل کم ہیں اور حکومت کی طرف سے اس نظام کیلئے وہ وسائل اور سہولیات جو ناگریز ہیں میسر نہیں ۔

اگر وسائل اور تعاون نہیں مل رہا تو کیا پھر ہم انصاف سے پہلو تہی کریں ، نہیں ایسا ممکن نہیں۔ میری ایک ہی درخواست ہے آپ قانون سیکھیں ،قانون کو جانیں کیونکہ آپ نے قانون کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں۔

ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بیٹھ کر ججز آپ کے فیصلے دیکھتے ہیں اگر وہ درست ہوں گے تو برقرار ہیں گے لیکن اگر اس فیصلے میں اگر کوئی سقم اور قانونی کمی ہے اور آپ کو قانون ہی نہیں آتا تو پھر کسی اورپر ذمہ داری نہیں آتی،کسی ایگزیکٹیو پر ذمہ داری نہیں عائد ہوتی ، صرف اور صرف ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم نے لوگوں کو قانون کے مطابق انصاف نہیں دیا ۔ 

اب وقت آگیا چاہے میں ہوں یا کوئی اور ،ہم نے اپنے گھر کو درست کرنا ہے ،اگر گھر کو درست نہیں کرینگے اور لوگوں بروقت انصاف فراہم نہیں کرینگے توبرملا کہہ رہا ہوں کہ لوگ اس شعبے سے بد ظن ہورہے ہیں ، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار اور شرم محسوس نہیں ہورہی ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی بڑی توفیق دی ہے کہ آپ انصاف کرسکیں۔ خدارا قانون کے مطابق جتنا جلد ہوسکے قانون کے مطابق فیصلے کریں اور مقدمات کو نمٹائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں دیوانی قانون کا تربیت یافتہ ہوں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک دیوانی مقدمے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے کہ چار چار سال التواء میں رہتا ہے ۔

کبھی آپ میں سے کسی نے دیوانی قانون کا ضابطہ کار (سول پروسیجر کوڈ) میں دیکھا ہے ؟ ۔ دس سال تک مقدمے کو التواء میں رکھنے کی سمجھ نہیں آتی۔ بلوچستان کے بارے میں تو شکایات کم ہیں لیکن پنجاب اور دیگر جگہ معلوم نہیں کیوں اور کس طرح دیوانی مقدمات کو نمٹانے میں پندرہ پندرہ سال لگتے ہیں ۔

ایک جج جسے قانون آتا ہے ، اسے فرد جرم عائد کرنا آنا چاہیے، اس کو پتہ ہونا چاہیے کہ کس طرح شواہد ریکارڈ کرناہے ، قانون شہادت کو کس طرح دیکھنا ہے اور کس طرح شواہد کو پرکھنا ہے ، جب تک جج صاحبان اس کی تربیت حاصل نہیں کرینگے قانون نافذ نہیں کرسکیں گے۔ آپ ایک عام قاضی نہیں وہ جج ہے جس نے صرف اور صرف قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے اور قانون کے خلاف نہیں جاسکتے۔ 

یہ بات درست ہے کہ اپنے تدبر، عقل اور ایمانداری کے خلاف آپ نے فیصلے کرنے ہیں کہ کوئی آپ پر کوئی انگلی نہ اٹھائے۔ بعض دفعہ آپ کے دوست بھی آپ کے ساتھ تعلق اور سلام دعا کا خدمت استعمال کرلیتے ہیں ، وہ آپ کے پاس آکر سلام کرکے واپس چلے جاتے ہیں اور باہر جاکر کسی سائل یا فریق کو کہتے ہیں کہ آپ کی سفارش کردی اور آپ کو پتہ تک نہیں ہوتا۔ 

اگر فیصلہ اس فریق کے حق میں آگیا وہ تو یہی سمجھے گا کہ یہ فیصلہ سفارش پر ہوا اس لئے آپ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں احتیاط کرنا ہوگی۔سپریم کورٹ کی جانب سے ماتحت عدالتوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ 

چیف جسٹس کے طور پر ایک سول جج ،جوڈیشل مجسٹریٹ اور چیف جسٹس پاکستان کی عدالتی ذمہ داری اور اتھارٹی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا اور کبھی یہ اخذنہیں کیا کہ میرے عدالت کے دوست جج صاحبان اور عدلیہ کرپٹ ہے لیکن ہمیں ہر شہری کو آئین اور قانون کے مطابق بلا امتیاز انصاف فراہم کرنا ہے اور آئین پاکستان کا آرٹیکل چار کہتا ہے۔ آپ اسے بار بار پرھیں ،اپنے پاس کتابیں رکھیں،اگر حکومت مطلوبہ کتابیں دے سکتیں تو اپنے طور پر بندوبست کریں۔ 

بنیادی اور ضروری قوانین آپ کے بنچ بک ہونے چاہیے۔ آپ کے میز کے سامنے یہ ہونی چاہیے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے کس قانون کی کس طرح تشریح کی ہے اور کون سے اصول طے کئے ہیں۔ 

یہی عدالتی اصلاحات کا آغاز ہے کہ ہم نے سب سے پہلے قانون کو سمجھنا اور سیکھنا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ قانون کی غلطی نہ کریں اور حقائق کو پرکھ کر موافق فیصلے دینے ہیں ۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کورٹ آف لاء ہیں ۔ ٹرائل کورٹس ہی کورٹ آف اپیل اورکورٹ آف فیکٹس ہیں۔ 

کوسچئن آف فیکٹ کو اگنور کیا گیا ہوگا تو اس صورت میں یہ معاملہ کوسچئن آف لاء بن جائیگا۔ اس لئے شواہد اورقانون شہادت کو غور سے پڑھیں کہ کونسے قانون لاگو ہوتے ہیں۔ آپ کو ان قوانین اورکوڈ آف سول پروسیجرپر عبور ہونا چاہیے اور باقی عدالتی اصولوں کا پتہ ہونا چاہے۔ 

عدالت کی حدود کا پتہ ہونا چاہیے کہ کب عدالت کی حدود ختم ہوتی ہے۔ جب آپ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرینگے تو وہ غلط ہوگا۔ غور کریں کہ ایک سائل کو کتنی مشکلات جھیلنی پڑیں گی کہ پھر اس کا مقدمہ سیشن کورٹ، ہاء یکورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک جائیگا ممکن ہے کہ اسے سپریم کورٹ میں انصاف ملے لیکن اس مراحل کو طے کرتے ہوئے سائل کے اتنے زیادہ وقت کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہوگا ، میں اور آپ ہوں گے ۔

کیونکہ میں میں اپنے آپ اور ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان میں فرق کوئی فرق نہیں کرتا ۔اگر حکومت کی طرف سے آپ کو کتابیں اور وسائل نہیں ملتے تو اپنے طور پر ہر سیشن جج اپنے اضلاع میں کوشش کریں کہ روز مرہ کے مسائل سے متعلق قوانین ،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اہم فیصلوں کو بنچ بک بنائیں تاکہ اس کی بنیاد پر آپ صحیح اور قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ 

یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آپ کو قانون کے مطابق مراعات اور سہولیات فراہم کریں ، آپ کو آج گاڑیاں ملی ہیں اس سے بہتر سہولیات ملنی چاہیے۔ چیف جسٹس نے جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ملازمین میں ہم سب سے زیادہ مراعات یافتہ ہیں ،آپ کی تنخواہیں اور الاؤنس اپنے گریڈ کے باقی ملازمین سے کہیں زیادہ ہیں آپ کو قوم کے ٹیکس کنندگان تنخواہوں کی صورت میں ادا کررہے ہیں ہم نے اسے جسٹیفائی کرنا ہے۔ 

اس کام سے آپ کی تین چیزیں وابستہ ہے آپ کا رزق، عزت اور عبادت۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ آپ جج ہیں اور آپ عبادت سرانجام دے رہے ہیں ،یہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ ہے۔ کبھی علی کرم اللہ وجہہ کا خط جو انہوں نے گورنراشتر کے نام بھیجا ،آپ کبھی اس کے مندرجات دیکھیں ہمارے دین اور مذہب سے زیادہ کوئی لوگوں اور دنیا کا کا بنایا ہوا قانون انصاف پر پورا نہیں اترتا۔ہمیں اسی پر عمل پیرا ہونا ہے۔

خدارا،دیانتداری کریں پھر دیکھیں کتنا مزہ ،چسکا اور سواد آنا شروع ہوجائیگا اورکتنا فخر محسوس کرینگے اورآپ کی نظریں کتنی اونچی ہوں گی۔ میرے جیسے چھوٹے قدوالا آدمی بھی اپنے آپ کو کتنا بلند محسوس کرنا شروع کردے گا جب آپ سمجھیں گے کہ آپ نے لوگوں کو انصاف دیا۔ 

یہ ہے انصاف کی اہمیت!، ہم قانون تبدیل نہیں کرسکتے لیکن کوشش کررہے ہیں لیکن بہت جلد عدالتی عمل سے رائج قوانین کو آسان بنائیں ،جس سے آپ کو سہولت ہوگی کہ آپ جلد مقدمات کا فیصلہ کریں۔ آپ اپنے فرائض معیار کے مطابق سرانجام دیں، رات کو گھروں میں بیٹھ کر اضافی کام کریں اورتیاری کریں تاکہ صبح لوگوں کو انصاف فراہم کریں ۔

صرف تنخواہ لینے کیلئے بغیر جذبے کے کام نہ کریں۔دینی فرائض کے حوالے سے بھی ہمیں اللہ نے بہت معتبر بنادیا ہے۔آپ عدالتی اصلاحات میں میرا ساتھ دیں یہ آپ کی بہت مہربانی مجھ پر نہیں بلکہ آنے والے نسلوں پر ہوگی ۔

آپ کا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کریں، لوگ اپنے بچوں کے فائدے کیلئے پیٹھ پر پتھر باندھ کر فاقے کاٹتے ہیں کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ وہ کردار اپنائیں جس سے آنے والی نسل کو کم از کم پاکستان اورپاکستان کی عدلیہ پر یقین ہو کہ یہ ایک منصف ادارہ ہے اوراگر کسی کا حق مارا گیا تو اس ادارے سے انصاف ملے گا، انصاف ملے گا اورصرف انصاف۔