|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2018

کوئٹہ : نیب بلوچستان نے سابق ایم ڈی واسا حامد لطیف رانا ان کے دو بھائیوں ، حاتم سٹیشنری کے مالک و دیگر 7ملزمان کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا۔

نیب بلو چستان کے مطا بق نہ صرف مذکو رہ کیس میں پانچ بینک اکاوئنٹس اور ملک کے مختلف شہروں میں متعدد جائیدادوں کا سراغ لگا لیا گیا،بلکہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سابق ایم ڈی واسا نے 33 کروڑ 70 لاکھ کے غیر قانونی اثاثے بنائے ۔

نیب تر جما ن کے مطا بق سابق ایم ڈی واسا نے اپنے دو بھائیوں عامر لطیف رانا، ذولقرنین رانا، اور حاتم سٹیشنری کے مالک عبدالحسین و دیگر کی معاونت سے دورانِ ملازمت بڑے پیمانے پر کرپشن کرتے ہوئے 33 کروڑ 70 لاکھ کے غیر قانونی اثاثے بنائے بلکہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے ملزم کے خلاف تحقیقات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پانچ بینک اکاوئنٹس اور ملک کے مختلف شہروں میں متعدد جائیدادوں کا سراغ لگا لیا ہے ۔ 

قومی احتساب بیورو بلوچستان نے سابق ایم ڈی واسا حامد لطیف رانا کو اگست 2017 میں گرفتار کر کے جیل بھیجوا دیاتھا ۔ ملزم کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس احتساب عدالت میں جمع کروا دیا گیاہے تاہم ملزم کے خلاف کچھ مزید شواہد اور معلومات کی روشنی میں مزید اثاثوں کی بھی تحقیقات جاری ہے جنہیں مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا جائیگا۔