|

وقتِ اشاعت :   April 15 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں ایک بار پھر مسیحی برادری دہشتگردی کا نشانہ بن گئی، عیسیٰ نگری میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے واے دو افراد ہلاک اور دو کمسن بچیوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں عیسیٰ نگری کا سربراہ بھی شامل ہے۔ 

مسیحی برادری نے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کیا، ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ٹائر جلاکر بروری روڈ اور سبزل روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا۔ صوبائی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتوار کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تھانہ بروری روڈ کی حدود میں بروری روڈ پر عیسیٰ نگری کے علاقے گلی نمبر تین میں پیش آیا جہاں نامعلوم دہشتگردوں نے دکانوں کے باہر بیٹھے اور گلی میں موجود افراد پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ لوگوں نے بھاگ کر دکانوں او ر گھروں میں داخل ہوکر جانیں بچائیں تاہم گولیوں لگنے سے دو کم عمر لڑکیوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ 

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چارتھی جو دو موٹرسائیکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے گلی میں داخل ہوتے ہی پستول سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نائن ایم ایم ہتھیار کا استعمال کیا جس کے بیس سے زائد خول موقع سے ملے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ 

زخمیوں کو فوری طور پر قریب واقع بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے شعبہ حادثات پہنچایا گیا ۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو بروقت طبی امداد نہیں ملی جس کی وجہ سے دو زخمی دم توڑ گئے۔ مقتولین کی شناخت 19سالہ راہد ولد خالد مسیح اور 28سالہ اظہر ولد اقبال مسیح کے نام سے ہوئی ۔ جبکہ زخمیوں میں عیسیٰ نگری کی پنجائیت کا سربراہ 38سالہ چوہدری سیموئل ولد بالا مسیح،گیارہ سالہ سونینا دختر شکیل مسیح اور13سالہ مہوش دختر ویلیم مسیح ہیں ۔

13سالہ مہوش ذہنی معذور ، گونگی اور بہری ہے۔چوہدری سیموئل کو مزید علاج کیلئے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔ ہلاک و زخمی افراد کے لواحقین اور مسیحی برادری کے افراد بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچے ۔اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرے لگائے۔

جلوس کی صورت میں میتوں کے ہمراہ ہسپتال کے باہر بروری روڈ اور گولیمار چوک پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر داخلہ اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ حکومت مسیحی برادری کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔ میتھوڈیسٹ چرج پر خودکش حملے اور شاہ زمان اسٹریٹ میں مسیحی برادر ی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد مسیحی اکثریت والی آبادیوں کی سیکورٹی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

چار ماہ کے دوران مسیحی برادری پر تیسری بار حملہ کیا گیا اور ان حملوں میں پندرہ افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے اور آج سے پہلے کے حملوں کے متاثرین کو اعلان کے باوجود اب تک معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔مظاہرے میں شریک ایک چرچ کے پادری نے بتایا کہ صبح پولیس اہلکار ہمارے پاس آئے اور کہا کہ دہشتگردی کا خطرہ ہے اس لئے احتیاط کریں ۔ پولیس کو جب معلوم تھا کہ دہشتگردی کا خطرہ ہے تو اس کے باوجود کیوں عیسیٰ نگری کی سیکورٹی کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔

عیسیٰ نگری میں پانچ سے زائد چرچ ہیں اتوار کو عبادات کے وقت تو پولیس موجود ہوتی ہے لیکن عبادات ختم ہوتے ہی پولیس اہلکار بھی واپس چلے جاتے ہیں ۔ اتوار کو شام اور رات کے اوقات میں اور باقی دنوں میں کسی بھی وقت کوئی سیکورٹی موجود نہیں ہوتی۔ 

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مسیحی برادری کے تحفظ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور ایف سی کے آفیسران نے مسیحی برادری کے سرکردہ افراد کے ساتھ مذاکرات کئے اور انہیں یقین دلایا کہ سیکورٹی سے متعلق اقدامات فوری اٹھائے جائیں گے۔یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔