کوئٹہ: کوئٹہ میں خودکش بم دھماکوں کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔ دونوں واقعات میں الگ الگ دہشتگرد تنظیموں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ دھماکے میں شہید پولیس اہلکاروں کو آہوں سسکیوں کے ساتھ آبائی علاقوں میں سپردخاک کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں منگل کو تین خودکش بم دھماکے ہوئے۔ شہر کے نواحی علاقے میاں غنڈی کے قریب دشت کمبیلا کے مقام پر ایف سی کی چیک پوسٹ پر دو خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ ایف سی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے بعد دونوں حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔
ڈی جی سول ڈیفنس بلوچستان محمد اسلم ترین کے مطابق اس حملے میں ایف سی کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے۔ تیسرا خودکش بم دھماکا منگل کو ہی کوئٹہ کے مصروف علاقے ایئر پورٹ روڈ پر بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک پر ہوا تھا۔ حملے میں چھ اہلکار شہید اور آٹھ زخمی ہوئے۔
نشانہ بننے والے اہلکار صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان کی کوئٹہ آمد کے موقع پر روٹ کی سیکورٹی پر تعینات تھے اور صدر آزاد کشمیر کی آمد کے بعد ڈیوٹی ختم کرکے واپس بلوچستان کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر بدر لائن جارہے تھے۔
شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ منگل کی رات کو پولیس لائن میں ادا کی گئی جس کے بعد میتیں آبائی علاقوں کو پہنچادی گئیں۔ شہید اہلکاروں میں پیر محمد بلیدی اور عزیز اللہ مینگل کو جعفرآباد، عبدالرشید مینگل کو نوشکی، کریم خان بگٹی کو صحبت پور ، علی نواز بگٹی کو ڈیرہ بگٹی میں سپردخاک کیا گیا۔
بہادر خان کی تدفین ضلع کچھی کی تحصیل بھاگ میں کی گئی۔ شہداء کی تدفین کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ دھماکے میں زخمی ہونیوالے آٹھوں اہلکار سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق زخمیوں میں دو کی حالت تشویشناک ہے جنہیں ٹراما سینٹر کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
کوئٹہ پولیس کے ایک سینئر آفیسر کے مطابق ایئر پورٹ روڈ دھماکے کا مقدمہ پولیس کے نئے قائم ہونیوالے انسداد دہشتگردی محکمے (سی ٹی ڈی)کے تھانے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار کی مدعیت میں نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کیا گیا۔
دھماکے کی جگہ کو اب تک پولیس نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ سی ٹی ڈی پولیس، کرائم برانچ ،سپیشل برانچ اور سی آئی اے پولیس کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے۔ موقع سے خودکش حملہ آور کا سر اور جسمانی اعضاء بھی ملے ہیں۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور نے جسم کے ساتھ خودکش جیکٹ باندھنے کے ساتھ ساتھ موٹرسائیکل پر بھی بارودی مواد نصب کر رکھا تھا۔ دھماکے میں مجموعی طور پر اٹھارہ سے بیس کلو گرام اعلیٰ معیار کا بارودی مواد ، بال بیرنگ اور نٹ بولٹس کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس نے حاصل کرلی ہے جس میں موٹرسائیکل سوار حملہ آور کو پولیس کے ٹرک کا تیزی سے تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل ہونیوالی تصاویر سے حملہ آور اور اس کے مبینہ سہولت کاروں کی شناخت اور تلاش شروع کردی گئی ہے۔سی ٹی ڈی پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد فارنزک ٹیسٹ اور حملہ آور کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لاہور کی پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری بجھوائے جائیں گے۔
دھماکے کی تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے خصوصی تحقیقیاتی ٹیم بھی تشکیل دیدی ہے جس میں پولیس کے مختلف شعبوں کے تفتیشی ماہرین شامل ہوں گے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہے کہ میاں غنڈی اور ایئرپورٹ روڈ پر خودکش حملوں میں دو الگ الگ دہشتگرد تنظیمیں ملوث ہیں جن کے تربیتی کیمپ پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان علاقوں میں قائم ہیں۔
کوئٹہ خودکش دھماکوں میں الگ الگ تنظیمیں شامل ہیں ،ابتدائی تحقیقات
![]()
وقتِ اشاعت : April 26 – 2018