کوئٹہ: کوئٹہ میں کالعدم دہشتگرد تنظیم کے ٹارگٹ کلنگ گروہ کے اہم کارندے کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار دہشتگرداور اس کا گروہ چالیس سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا۔
یہ بات ڈی آئی جی سی ٹی ڈی پولیس اعتزاز احمد گورائیہ نے سی ٹی ڈی کمپلیکس کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ ڈی آئی جی اعتزاز گورائیہ نے بتایا کہ قاری حافظ محمد اسماعیل عرف مفتی عرف خالد قوم مینگل لشکر جھنگوی العالمی کا اہم اور فعال کارندہ ہے جسے گزشتہ شب سی ٹی ڈی پولیس نے خفیہ اطلاع کی اطلاع پر کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی کے قریب لی شاہ محمد میں چھاپہ مار کر گرفتار کیا ۔
ملزم کے قبضے سے ایک کلاشنکوف ، ایک دستی بم، ڈیڑھ کلو بارودی مواد اور نٹ بولٹ برآمد کئے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشتگرد لشکر جھنگوی العامی کے اس ٹارگٹ کلر گروہ کا حصہ تھا جس نے دو سالوں کے دوران پولیس اور ایف سی اہلکاروں اور ہزارہ برادری کے افراد سمیت چالیس سے زائد لوگوں کو قتل کیا۔
ملزم خود جنوری اور جون 2016ء میں ٹارگٹ کلنگ کی تین وارداتوں میں شریک رہا جس میں پرانی سبزی منڈی میں پرچون کی دکان پر فائرنگ کرکے دو قندھاری شیعہ، ملتانی محلہ مسجد عمر کے سامنے پولیس اہلکاروں اور ڈبل روڈ پر چار ایف سی اہلکاروں کو قتل کیاگیا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد کئی مقدمات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جو سی ٹی ڈی کی اہم کامیابی ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ اس گروہ میں کوئٹہ کے سائنس کالج کے طلباء بھی شامل تھے جنہوں نے دہشتگردی کی تربیت افغانستان سے لی۔
یہ طلباء پہلے سپاہ صحابہ کی طلباء تنظیم کے فعال ارکان تھے جنہوں نے بعد میں افغانستان میں جاکر دہشتگردی کی تربیت لی اور واپس آکر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کرتے رہے۔ گروہ کے ارکان میں نجیب بادینی، اسد عرف خالد، نعمان، عبدالخالق، ابراہیم ،عمر، قاہر خان کاکڑ، نعیم کاکڑ، زکرم زہری اور اعجاز شامل تھے جن میں چھ مختلف مقابلوں میں مارے گئے جبکہ چار دہشتگرد مفرور اور افغانستان میں موجود ہیں۔ اسد درانی حیدرآباد میں بینک ڈکیتی میں مارا گیا۔
نعیم کاکڑ، اعجاز، یوسف اور عبدالخالق کوئٹہ میں مارے گئے۔ اس گروہ نے 2016ء میں قلندار مکان ،سرکلر روڈ ، فائر بریگیڈ پلازہ، پاسپورٹ آفس جائنٹ روڈ سمیت مجموعی طور پر پندرہ وارداتوں میں چالیس سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی جن میں پولیس اور ایف سی اہلکار بھی شامل تھے۔
پشتون آباد میں پولیس موبائل پر ایک ہفتے میں دو بار حملوں، جان محمد روڈ پر پراسکیویشن ڈیپارٹمنٹ کے نسیم الرحمان، سیٹلائٹ ٹاؤن میں بلوچستان کانسٹیبلری کے دو سب انسپکٹر، سیٹلائٹ ٹاؤن میں قادیانی کے قتل ،بینک ڈکیتیوں اور بھتہ خوری میں بھی یہ گروہ ملوث رہا ہے۔
گرفتار دہشتگرد محمد اسماعیل نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ پشتون آباد میں پولیس موبائل پر فائرنگ کرنیوالے ٹارگٹ کلر یوسف نے اس واقعہ میں اپنے قریبی رشتہ دار پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا۔ملزم نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جائنٹ روڈ پر پاسپورٹ آفس کے قریب ٹارگٹ کلنگ کی واردات کے بعد انہوں نے اسلحہ اپنے ایک پیدل ساتھی کو دے دیا اور خود موٹرسائیکل پر فرار ہوگئے۔
راستے میں ایک ناکے پر ایف سی اہلکاروں نے روکا تو انہوں نے اسٹوڈنٹس کارڈ دکھا کر جان چھڑائی۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ گروہ کا اہم کارندہ اکرم زہری بھی مفرور ہیں جس کی سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے رکھی گئی ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔ گروہ کا دوسرا رکن محمود عرف ابراہیم بروری روڈ کا رہائشی ہے جو اطلاعات کے مطابق اس وقت افغان سرحدی علاقے برآمچاہ میں موجود ہے۔
سی ٹی ڈی پولیس فعال ہونے کے بعد دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کی تصاویر اخبارات میں شائع کرارہی ہے تاکہ عوام کی مدد حاصل کی جاسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام اور پولیس کے درمیان پایا جانیوالا عدم اعتماد کو ختم کرے اور اس سلسلے میں عوام ہماری مدد بھی کررہے ہیں جو مثبت پیشرفت ہے۔
اعتزاز گورائیہ نے کہا کہ گرفتار دہشتگرد نے اعتراف کیا ہے کہ اسے 2014ء میں لشکر جھنگوی العالمی کے کوئٹہ کے کمانڈر نجیب بادینی نے تنظیم میں شامل کیا اور اس کے بعد اس نے افغانستان میں جاکر دہشتگردی کی تربیت لی۔ اعتزازاحمد گورائیہ نے کہا کہ جو بھی دہشتگرد پکڑا جاتا ہے تفتیش میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس نے افغانستان سے تربیت لی۔
ہمارے علم میں ہے کہ درجنوں کی تعداد میں نوجوان جہاد کے نام پر افغانستان گئے جہاں انہیں دہشتگردی کی تربیت دے کر واپس پاکستان بھیجا گیا اگرچہ یہ نوجوان اب تک دہشتگردی کی کسی کارروائیوں میں ملوث نہیں پائے گئے لیکن ہم نے محکمہ قانون سے قانونی رائے طلب کی ہے کہ ان نوجوانوں کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کئے جائیں تاکہ ان کی باقاعدہ نگرانی کی جاسکے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشتگردی کی حالیہ وارداتوں میں ملوث گروہ کی نشاندہی بھی ہوگئی ہے جسے جلد گرفتارکرلیں گے۔
کوئٹہ کالعدم تنظیم کا اہم کارندہ گرفتار، چھ دہشت گرد پولیس مقابلوں میں مارے گئے ،ڈی آئی جی پولیس
![]()
وقتِ اشاعت : May 10 – 2018