|

وقتِ اشاعت :   May 31 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کو اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کرنے سے متعلق قرار داد منظور کرلی گئی۔ قرارداد کے خلاف اپوزیشن جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی نے احتجاج کیا اورمنظور ہونے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ 

اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں بدھ کی رات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جوکہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور صوبے کی آبادی دوردراز علاقوں پر مشتمل ہے کیونکہ موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت 31مئی کو مکمل ہورہی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے انعقاد کیلئے 25جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے جبکہ ان دنوں بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ووٹر کا انتخابی عمل میں حصہ لینا ناممکن ہوجاتا ہے ۔

علاوہ ازیں پولنگ اسٹیشن پربجلی نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ اسٹاف کا بیٹھانا بھی محال ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ آئندہ آنے والے عام ا نتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اگست 2018ء کے آخری ہفتے میں عام انتخابات منعقد کرائے تاکہ صوبے کے عوام حق رائے دہی استعمال کرسکیں۔ 

قرارداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں گرمیوں میں 50سے زائد ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہوتا ہے دوردراز علاقوں سے اتنی گرمی میں آنا ووٹرز کیلئے ناممکن ہے ۔

بلوچستان میں ویسے ہی ٹرن آؤٹ کم رہا ہے اور ایسے موسم میں الیکشن مہم چلانا بھی انتہائی مشکل ہے ہم چار گھنٹے تک ووٹرز کولائن میں کھڑا نہیں کرسکتے ہم پرالزام لگایا جارہا ہے کہ یہ بھی کوئی سازش ہے مگر وفاق کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ٹی وی اینکرز کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بلوچستان کے زمینی حقائق الگ ہیں ۔

ہم پر پہلے بھی الزامات لگے جو غلط ثابت ہوئے ہم وفاق سے صرف گزارش کر رہے ہیں کہ بلوچستان کے معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتخابات کو صرف ایک ماہ کیلئے ملتوی کردیں ایسا کرنے سے کوئی آسمان نہیں گرے گا کچھ لوگوں نے جمہوریت کو اپنی منشاء کے مطابق بنالیا ہے وہ انٹراپارٹی الیکشن نہیں کراسکتے جس طرح پارٹی الیکشن کرائے وہ بھی سب کو معلوم ہے جمہوریت صرف اپنے خاندان کو نوازنے کا نام نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان نہیں بلکہ گرمی کی وجہ سے ٹرن آؤٹ متاثر ہوگا۔ نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی میررحمت صالح بلوچ نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری طریقہ نہیں ملک کو جن چینلنجز کا سامنا ہے انکا مقابلہ صرف جمہوریت سے ممکن ہے وقت پر الیکشن ہونگے تو نئے نمائندے آکر کردارادا کریں گے یہ قرار داد پورے ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ 

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرے نے کہا کہ قرارداد جمہوریت اور آئین کے منافی ہے ملک میں جمہوریت اور آمریت نواز قوتوں کی جنگ جاری ہے آمریت کا ساتھ دینے والے آج پھر جمہوریت کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات کسی نہ کسی طریقے سے ملتوی ہوں ہم یہ بدنما داغ بلوچستان اسمبلی پر نہیں لگنے دیں گے محرک سے گزارش ہے کہ وہ اپنی قرار داد واپس لے لے۔

نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی یاسمین لہڑی نے کہا کہ پہلے ہی بلوچستان اسمبلی کے چرچے ہیں کہ یہاں سے جمہوریت ڈی ریل کی جائے گی قرار داد میں کمزور جوازپیش کیا گیا ایسا کونسا چراغ ہے جسے رگڑ کر ایک ماہ میں موسم ٹھیک ہوجائے گا ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ اس قرار داد کا مقصد کچھ اور ہے ضیاء الحق نے بھی دو ماہ کا کہہ کر 11سال حکومت کی قرار داد میں دس منٹ پہلے تبدیلی کی گئی جس کی مذمت کرتے ہیں حکومت نے قرار داد لانے کیلئے طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا ۔

الیکشن آئینی تقاضا ہیں میرسرفراز بگٹی کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے الیکشن کمیشن کے پاس جاتے گرمی تو پورے ملک میں ہے الیکشن آئینی تقاضا ہیں یہ ضرور پورا ہونا چاہئے ہم اس قرار داد کی حمایت کرکے بلوچستان اسمبلی پر بدنما داغ نہیں لگنے دیں گے جمہوریت کے خلاف سازش ہورہی ہے ۔

حکومت وہ کام نہ کرے جس سے کل انہیں ندامت اور شرمندگی ہو۔ صوبائی وزیرداخلہ میرسرفراز بگٹی نے نکتہ ذاتی وضاحت پر کہا کہ میں جمہوریت کیلئے مسنگ پرسنز رہا ہوں اور جیل کاٹی ہے مجھے والد کے ساتھ جی ایچ کیو میں بند کیا گیا ہم کوئی غیرآئینی اور غیرقانونی کام نہیں کر رہے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی ایک ماہ کیلئے الیکشن ملتوی ہوئے تھے ہم صرف وفاق کے ریکارڈ پر یہ بات لانا چاہتے ہیں ۔وفاق نے پہلے کونسی ہماری قراردادوں پر عمل کیا ہے ۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن عبیداللہ بابت نے قراردادکی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ملتوی کرنے کے خطرناک نتائج مرتب ہونگے ۔نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رحمت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی روایات کو پامال کیاجارہا ہے ملک اور اداروں پر بات نہیں کرنی چاہئے یہ میرا ملک اور میرے ادارے ہیں ۔

ہمیں انکے پاس جانے سے کوئی نہیں روک سکتا پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر سازش ہورہی ہے جس نے اپنا الگ صوبہ بنانا ہے وہ بنالے یہ بلوچستان اسمبلی ہے یہاں جان بوجھ کر تقسیم کرنے کی بات نہ کی جائے۔ 

پشتونخوامیپ کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ ہمیں جمہوریت اورالیکشن عزیز ہیں ہمیں اپنے ملک کی فوج اور جرنیل بھی عزیز ہیں لیکن وہ غیر جمہوری طریقوں سے دستبردار ہوجائیں وقت کا تقاضا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں۔ 

صوبائی وزیر میر عاصم کردگیلو نے کہا کہ اسمبلی میں غیر جمہوری رویہ اختیار کیا جارہا ہے جس کا ہم سب کو خیا ل رکھنا چاہئے۔ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ ہم چوبیس گھنٹوں میں الیکشن کرانے کیلئے تیار ہیں مگر زمینی حقائق کچھ اور ہیں لوگ گرمی میں نقل مکانی کرتے ہیں جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ہر انسان کو ووٹ کا حق دیا جائے بہت سی حلقہ بندیوں کے فیصلے اب بھی عدالت میں ہیں لہذا اگر الیکشن ایک ماہ بعد ہونگے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے روایت کے مطابق اسمبلی چلانے کی کوشش کی الیکشن وقت پر ہونے چاہئے لیکن حلقہ بندیوں کے کئی فیصلے عدالت میں ہیں جب تک حلقہ بندیاں درست نہیں کی جاتیں تب تک انتخابات نہیں ہونے چاہئے اورقرارداد میں اس ترمیم کو بھی شامل کیا جائے۔ 

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو غیر جمہوری رنگ دیا جارہا ہے ہم انتخابات روک نہیں سکتے صرف وفاق سے اس پر بات کر رہے ہیں الیکشن ملتوی نہیں ہورہے ان پر نظرثانی کی بات کی جارہی ہے ہمیں اب تک یہ نہیں پتہ کہ ہمارا حلقہ کونسا ہے کل ایک حلقہ تھا جو آج کسی دوسرے حلقے میں شامل ہوچکا ہے عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کسی کے باپ کا صوبہ نہیں یہ تمام قوموں کا صوبہ ہے یہاں بلوچ، پشتون، سندھی ، پنجابی ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں ،اب یہ چیزیں ختم ہونی چاہئے ہمیں قوموں کے نام پر مزید نہیں بانٹا جاسکتا جو لوگ پانچ سال حکومت میں رہے انہیں پشتون صوبہ بنانا چاہئے تھا میں اب بھی کہتا ہوں کہ وہ قرار داد لائیں ہم اسکی حمایت کریں گے ۔

بلوچستان کو اب ایک قوم بن کر ترقی دینے کی ضرورت ہے جو رویہ کچھ ارکان اسمبلی نے دکھایا ہے اس پر شرم آتی ہے بلوچستان کی اسمبلی کو معزز کہا جاتا تھا لیکن آج یہ مچھلی بازار بنی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کی بات ہورہی ہے نواز شریف کو ضیا الحق لایا آج نواز شریف کا ساتھ کون دے ر ہا ہے اگر بات اصولی کرتے ہیں تو کردار بھی اصولی ہونا چاہئے جمہوریت کو صوبون کا حق ملتا ہے کیا نواز شریف نے صوبوں کو حق دیا اور تین سال میں این ایف سی ایوارڈ منظور ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ بلو چستان کے عوام کے وسیع تر مفاد میں الیکشن کو ایک ماہ کیلئے ملتوی کرنے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی ۔بعد ازاں چیئرپرسن یاسمین لہڑی نے قرار داد کو حلقہ بندیوں کے کیسز کے فیصلے آنے تک کی ترمیم کے ساتھ ایوان کی رائے سے متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔ اسمبلی کااجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔