|

وقتِ اشاعت :   June 4 – 2018

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹ پارٹی کے زیر اہتمام حلقہ بندیوں سے متعلق نظر ثانی کے فیصلوں کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ 

احتجاجی مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ ایچ ڈی پی کے وائس چیئرمین رضا وکیل ‘ بی این پی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ ،ضلعی صدر احمد نواز بلوچ ودیگر کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ محکمہ شماریات ‘ الیکشن کمیشن اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے آبادی کے کو ملحوظ خاطر رکھ کر کوئٹہ میں کی جانے والی حلقہ بندیوں کو دو بارہ کرانے کا مقصد سیاسی تنگ نظر جماعت کی ایماء پربرادر اقوان کو آپس میں دست و گریبان کرنے کی کوششیں سازش ہے ۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قانون ‘ آئین اور جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے جدوجہد کی ہے۔ کوئٹہ میں تمام اقوام کو ان کے آبادی کے تناسب سے صوبائی و قومی اسمبلی کی نشستیں ملیں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے تھے کہ سریاب سب سے بڑی پرانی اور گنجان آبادی والا علاقہ ہے مردم شماری و خانہ شماری کے بعد یہ بات درست ثابت ہوئی اب سریاب کی تین صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست ہے ۔

اس حوالے سے بلوچوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ کوئٹہ میں تعصب ‘ تنگ نظری کی سیاست نہ کی جائے اقوام کی جتنی نشستیں بنتی ہیں انہیں دی جائیں ہزارہ قوم ہو ‘ پشتون یا دیگر اقوام ان کے آبادی کے تناسب سے حلقہ بندیاں کی گئیں تھیں ۔

حلقہ بندیوں کے آڑ میں کوئٹہ میں انتخابات کے موقع پر سازشیں کی جا رہی ہیں ایک بار پر 2013ء کی طرح ہمارے مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم نہیں چاہتے کہ آبادی سے زیادہ نشستیں دی جائیں پشتون کو ان کی آبادی ‘ بلوچوں کو ان کی آبادی ‘ پنجابی کو ان کی آبادی ‘ ہزارہ کو ان کی آبادی کے مناسبت سے نشستیں دی جائیں ۔

کسی کو یہ اختیار نہیں دیں گے کہ وہ آبادی کے تناسب میں بگاڑ پیدا کر کے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالے ہم معزز جج صاحبان سمیت عدالتوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اس حوالے سے عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں اور اس حوالے سے اپیل کریں ۔

مقررین نے کہا کہ ہم کوئٹہ کو تعصب ‘ نسل پرستی کی سیاست سے پاک کرنا پڑے گا کہ تمام اقوام شیروشکر ہو کر رہ سکیں محکوم اقوام کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے دست و گریبان کرنا نیک شگون نہیں اس حوالے سے ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے بنائے گئے حلقوں کو بحال کیا جائے۔