|

وقتِ اشاعت :   June 4 – 2018

کوئٹہ: نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا چھٹا مرحلہ بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا اور سات تجویز کردہ ناموں میں سے کسی بھی ایک پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا۔

اب حال ہی میں تحلیل ہونیوالی صوبائی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی عبدالقدوس بزنجو اور عبدالرحیم زیارتوال کی جانب سے تجویز کردہ دو دو ناموں میں سے کسی ایک کا نگراں وزیراعلیٰ کے طور پر انتخاب کا فیصلہ کرے گی۔160

پارلیمانی کمیٹی بھی تین دن کے اندر کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کے پاس نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کیلئے تین دن کا وقت تھا جو اتوار کی رات بارہ بجے ختم ہوگیا۔ 

دونوں رہنماؤں کے درمیان پانچ ملاقاتیں بے نتیجہ ہونے کے بعد اتوار کی رات کو چھٹی اور آخری ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں حکومت کی جانب سے جعفر خان مندوخیل، اپوزیشن کی جانب سے سابق وزراء اعلیٰ 160عبدالمالک بلوچ،نواب ثناء اللہ زہری اور پشتونخوامیپ کے رہنماء عبیداللہ بابت نے بھی مشاورتی ملاقات میں شرکت کی۔

اس سے قبل حکومت نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال کے قریبی رشتہ دار سابق صوبائی وزیر ماحولیات پرنس احمدعلی، کاروباری شخصیت علاؤالدین مری اور جمعیت علماء اسلام کے سابق سینیٹر سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کامران مرتضی ایڈووکیٹ جبکہ اپوزیشن نے سابق سفارتکار جہانگیر اشرف قاضی اور سابق اسپیکربلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی کے نام تجویز کررکھے تھے۔ 

پانچوں ناموں میں سے کسی ایک پر بھی اتفاق نہ ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے ہفتہ کی شب حسین بخش بنگلزئی اور اپوزیشن کی جانب سے معروف قانون دان علی احمد کرد ایڈووکیٹ کے نام بھی تجویز کردہ ناموں کی فہرست میں شامل کئے گئے لیکن مذاکرات کے آخری دور میں نئے ناموں میں سے بھی کسی ایک پر اتفاق نہ ہوسکا۔آخری آئینی مشاورتی ملاقات بے نتیجہ ختم ہونے کے باعث دونوں فریقین معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں لے جانے پر متفق ہوگئے ۔

نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کا معاملہ اتوار کی رات بارہ بجے کے بعد پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا ہے۔ یہ کمیٹی تحلیل شدہ بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل ہوگی۔ تین دن کے اندر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو چھ جون کی رات بارہ بجے اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔ جو آٹھ جون تک پارلیمانی کمیٹی کے بھیجے ہوئے ناموں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا۔

ادھر عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ملاقات ناکام ہونے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں پشتونخوامیپ کی جانب سے عبدالرحیم زیارتوال،نیشنل پارٹی کی جانب سے عبدالمالک بلوچ اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ثناء اللہ زہری 160شریک ہوئے۔ اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کے ارکان اور نگراں وزیراعلیٰ کیلئے دو نام تجویز کرنے پر مشاورت ہوئی۔ 

اسی طرح حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کے ارکان پیر کی صبح تجویز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کیلئے علاؤ الدین مری اور پرنس احمد علی کے نام ہی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری تاحال نہیں ہو سکی ہے اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں چلا گیا ہے جس کے بعد پنجاب حکومت اور تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کیلئے اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے ۔

جس کے مطابق حکومت کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی میں سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ ،سابق صوبائی وزیر اوقاف زعیم قادری اور سابق صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کے نام دئیے گئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے محمود الرشید نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مشاورت کے بعد پارلیمانی کمیٹی کیلئے ناموں کا اعلان کر دیا ۔

جس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی میں محمود الرشید،سبطین خان اورشعیب صدیقی کے نام دئیے گئے ہیں جس کے بعد باضابطہ طور پر شام کو پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا جائیگا جو آئندہ ایک دو روز میں اجلاس طلب کر کے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری کیلئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچ جائیگی یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں موجود دیگر اپوزیشن پارٹیوں جن میں پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی اور ق لیگ شامل ہیں ۔

ان کے کسی بھی نمائندے کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل نہیں کیا ہے ۔نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقرری کا معاملہ الیکشن کمیشن کوبھیج دیا گیا جوآج پیرتک نگران وزیراعلیٰ کا نام فائنل کریگا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ 

قبل ازیں تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں میں نگران وزیراعلی کا فیصلہ نہ ہو سکا تھا جس کے بعد معاملہ پارلمیانی کمیٹی کے سپرد ہوا تھا۔ اب فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا ہے جو پارلیمانی کمیٹیوں کے بھجوائے 4 ناموں جن میں جسٹس (ر) دوست محمد، منظور آفریدی، حمایت اللہ اور اعجاز قریشی شامل ہیں میں سے نگران وزیراعلی کا نام کل تک فائنل کریگا۔