کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری منظور احمد کاکڑ ، مرکزی رہنما نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی نے کہا ہے کہ پارٹی نے انتخابات کے لئے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
انتخابات میں ہمارا مقابلہ مفاد پرست سیاستدانوں سے ہے آئندہ بلوچستان کے فیصلے رائے ونڈ ، بنی گالہ اور بلاول ہا ؤس کے ڈرائنگ رومز کے بجائے بلوچستان کی سر زمین پر ہی ہونگے دہشت گردی کے پیچھے وردی کا نعرہ لگانے والوں کی مذمت کرتے ہیں ۔
بلوچستان مستحکم ہوگا تو پاکستان ترقی کرے گاسینیٹ انتخابات میں جس طرح پارٹی چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے لانے میں کامیاب ہوئی اسی حکمت عملی سے آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو کر صوبے کے غصب شدہ حقوق واگزا رکرائیں گے اور ساحل و سائل ،قدرتی معدنیا ت اور عوام کے حقوق کا تحفظ کرینگے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں ظفر شاہوانی کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس موقع پر سردا رنور احمد بنگلزئی سمیت پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے پریس کانفرنس کرتے ہوئے منظور کاکڑ ،نوابزادہ سراج رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان بھر سے دو ماہ کے دوران ہزاروں افرادد کی پارٹی میں شمولیت ہماری مثبت پالیسیوں پر اعتماد کی مظہر ہے ۔
گزشتہ پچاس سالوں سے بلوچ ، پشتون اور مذہب کے نام پر لوگوں کو جنت کا خواب دکھاکرووٹ لینے والوں نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا آج بھی بلوچستان میں انسان او رجانور ایک ہی تالاب سے پانی پینے پر مجبور ہیں ، تعلیمی اداروں میں بنیادی س ہہولیات کا فقدان ہے ۔
ان جماعتوں نے دوران اقتدار ذاتی مفادات حاصل کئے اقرباء پروری ، کرپشن اور تعصب کی سیاست کوفروغ دیا پانچ سالوں تک پی اینڈڈی کے محکمے پر براجمان قوم پرست صوبائی وزیر کے دورا قتدار میں ہر سال صوبے کے پندرہ ارب روپے لیپس ہوتے رہے گزشتہ دو وزراء اعلیٰ کو صوبے کے عوام اتنے عزیز تھے کہ ان کے پاس اتناوقت بھی نہ تھا کہ آپس میں بیٹھ کر سالانہ پندرہ سے بیس ارب روپے لیپس ہونے کے تدارک کیلئے کوئی حکمت عملی بنالیتے اتنی بڑی رقم لیپس ہونا ۔
ان حکومتوں اور پارٹیوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے تعلیم کے شعبے میں بہتری کو اپنے منشور کا حصہ قرار دے کر گلی محلوں میں سکول قائم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے پانچ سالوں کے دوران محکمہ تعلیم کو بے دردی سے لوٹا ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں مسلم لیگ ن میں شامل بلوچستان کے ایم پی ایز کو پارٹی قیادت جانتی تک نہیں تھی نہ انہیں پانچ سالوں کے دوران کوئی اہمیت دی گئی نہ کسی حوالے سے ان کو سنا گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجگور، قلعہ سیف اللہ ، ڑوب ، لورالائی ،مستونگ ، قلات لسبیلہ کے مسائل سے رائے ونڈ میں بیٹھا شخص کیسے باخبر ہوسکتا ہے بلوچستان عوامی پارٹی ظالموں کے خلاف بنی ہے جو مظلوموں کو ساتھ لے کر گوادر پورٹ،ساحل وسائل معدنیات اور اپنے آئینی حقوق کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مخالفین کو اپنی شکست نظر آرہی ہے جس پر وہ خوفزادہ ہیں اور نت نئے طریقوں سے صوبے میں حقیقی تبدیلی لانے والوں کا راستہ روکنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں بلوچستان عوامی پارٹی نے انتخابات کے لئے تمام امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے ۔
انتخابات کے بعد صوبے کے عوام نئے چہروں کو میدان عمل میں پائیں گے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں قیام امن کا سہرا پاک فوج کے سر ہے جوانوں کی بیش بہا قربانیوں کی بدولت پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے جس پر بلوچستان اور پاکستان کے عوام انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
دریں اثناء بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ قوم پرستوں اور مذہب پرستوں نے یہاں کے عوام کو ورغلا کر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے حقوق کے بجائے اپنی مراعات کو ترجیح دی قوم پرستوں نے حقوق کے نام پر نعرہ لگا کر پنجاب اور اسلام آباد سے کچھ حاصل نہیں کیا بلوچستان عوامی پارٹی اقتدار میں آکر پنجاب اور اسلام آباد سے آکر حقوق کی بات کریں گے بلوچستان کو خوشحال اور پرامن بنائیں گے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم باغ ‘ قلعہ سیف اللہ ‘ کنچوغی سمیت دیگر علاقوں سے عبدالمالک اور حیات اللہ کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے پشتونخواملی عوامی پارٹی سے مستعفی ہو کر بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماء عظیم کاکڑ اور ژوب سے قومی اسمبلی کے امیدوار عطاء محمد مردان زئی بھی موجود تھے منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق دورحکومت میں قوم پرستوں کی نااہلی کی وجہ سے ہر سال 15 سے 20 ارب روپے لیپس ہوتے تھے قوم پرستوں نے صوبہ کے وسیع تر مفاد کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کی کوشش کی ۔
گزشتہ دو ماہ کی قلیل مدت میں مذکورہ پارٹی میں بلوچستان بھر سے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے و الے بلوچ، پشتون سمیت دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن)، پشتونخواملی عوامی پارٹی، پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں سے مستعفی ہو کر اس میں شامل ہو رہے ہیں ۔
کیونکہ بلوچ پشتون اور مذہب پرستوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے صوبے اور لو گوں کو استعمال کیا لیکن ان کے فلاح وبہبود پر کوئی توجہ نہیں دی21 ویں صدی کے جدید دورمیں لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ چالیس سے50 سالوں کے دوران قوم اور مذہب پرستوں نے عوام کو بے وقوف بنا کر ذاتی مفادات حاصل کئے اسی لئے بلوچستان کی تعمیر وترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور ماضی میں بر سر اقتدار رہنے والوں کی نظریں بنی گالہ ، جاتی امراء اور بلاول ہاؤس پر مرکوز رہتی تھی بی اے پی بلوچستان میں بیٹھ کر صوبے اور عوام کے حقوق کے حصول ساحل ووسائل پر دسترس کے حوالے سے مشاورت سے فیصلے کرے گی ہم سب ایک پلیٹ فارم پر متحد ہے ۔
سابقہ حکمرانوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صوبے کو تباہی کی جانب دھکیلا اور اپنی نا لائقی کی وجہ سے وفاق سے آنیوالے15 ارب روپے صوبے کی تعمیر وترقی پر خرچ نہ کر سکے ۔
کیونکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، محمود خان اچکزئی اور نواب ثناء اللہ خان زہری کے پاس اس صوبے اور عوام کی تقدیر بدلنے کے لئے ایک گھنٹہ کا وقت نہیں تھا کہ وہ مل بیٹھ کر اس پیسے کو عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے خرچ کر تے حالانکہ تعلیم ، صحت اور منصوبہ بندی وترقیات کی وزارتیں قوم پرستوں کے پاس تھی جن کا نعرہ تھا کہ ہر بچہ اور ٹیچر سکول میں ہو گا لیکن آج تعلیم کا جو حال وہ سب کے سامنے ہیں اندرون بلوچستان صحت کی سہولیات نا پید ہے ۔
انہوں نے کہا کہ قوم پرستوں اور مذہب پرستوں نے یہاں کے عوام کو ورغلا کر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے حقوق کے بجائے اپنی مراعات کو ترجیح دی قوم پرستوں نے حقوق کے نام پر نعرہ لگا کر پنجاب اور اسلام آباد سے کچھ حاصل نہیں کیا بلوچستان عوامی پارٹی اقتدار میں آکر پنجاب اور اسلام آباد سے آکر حقوق کی بات کریں گے بلوچستان کو خوشحال اور پرامن بنائیں گے۔
انتخابی امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جلد اعلان ہوگا ، بی اے پی
![]()
وقتِ اشاعت : June 12 – 2018