|

وقتِ اشاعت :   June 27 – 2018

کوئٹہ : ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر میں رکشوں کے نئے روٹ پرمٹ بھاری رقم کے عوض نکالنے کا انکشاف ہواہے ۔شہر میں رش اور رکشوں کی بھرمار کی وجہ سے ہائی کورٹ کے جج صاحب نے 2012سے نئے روٹ پرمٹوں کے اجراء پر پابندی عائدکی تھی ۔

لیکن گزشتہ دو ماہ قبل متعلقہ کلرک کے سیاسی دباؤ پر ٹرانسفر ہونے کے بعد نئے آنے والے کلرک نے لوگوں سے نیشنل بنک اسکیم کے نام پربھاری رقوم لے کر پرمٹ جاری کروائیں ۔زرائع کے مطابق تقریبا دو ماہ میں 30سے 40نئے رکشوں کے پرمٹ جاری ہوئے جسکے لیے بھاری رقم بھی بٹوری گئی ۔

اس بات کا علم سیکرٹری آر ٹی اے کو ہونے پر متعلقہ کلرک کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے پرمٹوں کو جعلی کہ کر کینسل کر دیا گیا ۔جبکہ شہر میں رکشوں کے پرمٹوں کے اجراء جہاں لوگوں کی دھوکہ دہی کرنے کے علاوہ رش میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔

آفس ریکارڈ کے مطابق پرمٹوں کا ریکارڈ 2012میں سیل ہوچکا ہے لیکن نئے پرمٹ جاری ہونے سے ریکارڈ میں شکوک وشہبات جنم لے رہے ہیں۔جبکہ ان پرمٹوں پر دوسال قبل ریٹائرڈ ہونے والے سیکرٹری آرٹی اے کوئٹہ کے دستخط سے جاری کئے گئے ہیں جبکہ چند پرمٹوں پر موجود سیکرٹری آرٹی اے کے دستحظ بھی رینول کی صورت میں موجود ہیں ۔

جبکہ ریٹارئرڈ ہونے والے سیکرٹری آرٹی اے سے معلوم کرنے پران پرمٹوں کے بارے میں انکشاف ہواکہ انہوں نے کوئی نئے پرمٹ پر دستخط نہیں کئے۔ دوسری جانب سیکرٹری آرٹی اے نے پرمٹوں کو جعلی قرار دیکر بری الزمہ ہورہے ہیں جبکہ جعلی قرار دینے کے بعد بھی انہی پرمٹ کا کیس رپیلسمنٹ کے لئے ایکسائز آفس بجھوایا گیا ہے اگر پرمٹ جعلی تھے تو ریپلسمنٹ کیس ایکسائز آفس کیوں بجھوایا گیا اس سے لگتاہے کہ دال میں کچھ کالاضرور ہے۔ 

اس سلسلے میں تحقیقات اور کارروائیوں سے مزید انکشافات سامنے آسکتے ہیں ۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ ،کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ آفسران اس سلسلے میں تحقیقات کراویا کر اس معاملہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ عدالت کے حکم کے پاسداری کے علاوہ معاشرے میں کرپشن اور غیرقانونی کاموں کو روکا جاسکے۔