کوئٹہ: سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی ایک کروڑ اکتالیس لاکھ روپے ،محمود خان اچکزئی 75 لاکھ، ثناء اللہ زہری ستائیس کروڑ ،نواب ثناء اللہ زہری 9کروڑ ،سرداراختر مینگل تین کروڑ روپے اثاثو ں کے مالک نکلے۔
سرفراز بگٹی کے پاس صرف ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کی بھیڑبکریاں اور مال مویشی ہیں۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں فارم ب اور جمع کرائے گئے حلف نامے جاری کردیئے ہیں ۔
ان حلف ناموں میں ظاہر کئے گئے اثاثوں کے مطابق غریب ترین صوبے بلوچستان کے سینکڑوں امیدوارکروڑ پتی ہیں۔پی ٹی آئی کے صوبائی صدرسرداریار محمد رند اکاون کروڑ گیارہ لاکھ روپے کے ساتھ صوبے سب سے امیر ترین امیدوار ہیں مگرانہوں نے صرف نو لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔
دو صوبائی حلقوں پر امیدوار ان کے بیٹے سردار خان رند بھی آٹھ کروڑ 53 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کے بیٹے کے پاس پینتیس لاکھ روپے کے مویشی ہیں۔ این اے دو سو اٹھاون سے سکندر حیات جوگیزئی تینتالیس کروڑ اثاثوں کے ساتھ دوسرے اور بیالیس کروڑ روپے کے ساتھ سابق صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو تیسرے امیرترین امیدوار ہیں۔
سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی ایک کروڑ اکتالیس لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں مگر ان کے پاس کوئی گاڑی اور جیولری نہیں۔محمود خان اچکزئی 75لاکھ 33ہزار روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے صرف ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے ٹیکس دی۔
نوابزادہ طارق مگسی بتیس کروڑ بیالیس لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں،انہوں نے گزشتہ سال سولہ لاکھ پچپن ہزار روپے ٹیکس دیا۔ پی بی بارہ نصیرآباد پر پیپلز پارٹی کے سابق صدر صادق عمرانی اٹھائیس کروڑ 83 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری 27کروڑ اوربی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل تین کروڑ روپے اثاثے کے مالک ہیں۔ دونوں سابق وزراء اعلیٰ کے پاس دبئی میں قیمتی فلیٹس بھی ہیں۔
اکیس کروڑ روپے اثاثے رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اکبر آسکانی نے انتخابی امیدواروں میں سے سب سے زیادہ نواسی لاکھ روپے ٹیکس دیا۔سابق وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے کل اثاثوں کی مالیت کاغذات نامزدگی میں درج نہیں تاہم ان کی جانب سے سراوان سیفٹی اینڈ سیکورٹی کمپنی، رئیسانی کول کمپنی کی ملکیت ظاہر کی گئی ہے ساتھ ہی آٹھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے پرائز بانڈ کی ملکیت کا بھی اندراج کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر ان کی لاگت نو کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ نواب اسلم رئیسانی نے 2017ء میں 27لاکھ روپے زرعی آمدن اور11لاکھ روپے دیگر ذرائع سے آمدن ظاہر کی ہے جس پر انہوں نے 66ہزار روپے ٹیکس دیا۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر سردار یعقوب ناصر نو کروڑ 86لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔
انہوں نے کوئٹہ کے مہنگے ترین علاقے میں سینکڑوں گز بنگلے کی قیمت صرف چار لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ سولہ کروڑ روپے اثاثوں کے مالک سرفراز بگٹی کے پاس ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کی بھیڑ بکریاں، اونٹ اور دیگر مال مویشی ہیں۔
سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے سولہ کروڑ روپے اثاثوں میں دو کروڑ روپے کے نایاب قالین جبکہ این اے دو سو انہتر خضدار سے امیدوارشکیل درانی نے اڑتیس لاکھ روپے کی گھڑیاں، بندوق اور خنجر بھی اثاثوں میں ظاہر کیے ہیں۔
این اے257پر امیدوارسابق صوبائی وزیرجعفرمندوخیل نو کروڑ اکانوے لاکھ روپے اور سابق اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع دو کروڑ اٹھائیس لاکھ روپے اثاثوں ،سابق صوبائی وزیر نواب ایاز جوگیزئی دو کروڑ بیالیس لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔
سابق رکن قومی اسمبلی قہار خان دان پانچ کروڑ 76لاکھ روپے ،جے یو آئی سابق وفاقی وزیر مولوی امیر زمان ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے اثاثوں کے مالک نکلے۔ این اے 259 پر امیدوار سابق صوبائی وزیر سردار سرفراز چاکر ڈومکی کے بیٹے حیربیار ڈومکی کے پاس 28 لاکھ روپے کا اسلحہ ہے جس میں سترہ رائفلیں اور شارٹ گن ہیں۔
ایک سو بیس اونٹ، ڈھائی سو بکریان، تین سو بھیڑیں، ساٹھ گائے بھی ان کی ملکیت ہیں۔ بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب میر عالی بگٹی انتیس کروڑ تیس لاکھ روپے اثاثوں اوربیس ہزار ایکڑ اراضی کے مالک ہیں۔ نوابزادہ گزین مری تین کروڑ 44 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔
وہ دبئی میں ایک قیمتی اپارٹمنٹ کے بھی مالک ہیں۔ شاہ زین بگٹی تئیس ہزار ایکڑ اراضی کے مالک ہیں۔ ان کی او جی ڈی سی ایل کو الاٹ کی گئی زمین پر پندرہ کروڑ روپے ٹیکس دیا گیا۔ سابق وفاقی وزیر دوستین ڈومکی تین کروڑ 37لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔
ان کے پاس پچاسی لاکھ روپے کے مویشی ہیں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری ایک کروڑ 64لاکھ روپے اثاثے رکھتے ہیں۔ سابق ایم این اے حافظ حسین احمد نے کاغذات نامزدگی میں 43لاکھ روپے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ این اے 265باپ پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی دو کروڑ نوے لاکھ روپے ،اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حید درانی دو کروڑ چودہ لاکھ روپے اثاثوں کی مالک ہیں۔
این اے261پر سابق وفاقی وزیر جنگیز جمالی نے سولہ کروڑ سے زائد اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کے رشتہ دار خان محمد جمالی پندرہ کرو رروپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ مری قبیلے کے سربراہ سابق صوبائی وزیر نواب جنگیز مری کے اثاثے پانچ کروڑ پندرہ لاکھ روپے مالیت کے ہیں۔
خضدار سے جے یو آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی مولوی قمر الدین صرف ساڑھے تین لاکھ اثاثوں کے مالک ہیں۔وہ غرین ترین امیدواروں میں شمار ہوتے ہیں۔ثناء بلوچ2کروڑ60لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔
اس کے علاوہ ان کا تین کروڑ روپے کا ناروے میں اپارٹمنٹ بھی ہے۔علی مدد جتک20کروڑ32لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔ جام کمال نے ایک کروڑ52لاکھ، حمل کلمتی نے 9کروڑ سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردیں
![]()
وقتِ اشاعت : June 27 – 2018