|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہوگئی۔ ملازمین اور پنشرز کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی رقم ختم گئی۔ بیشترسرکاری محکموں کے اکاؤنٹس منجمد کرکے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز روک دیئے گئے۔ 

صوبائی حکومت نے مالی مشکلات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے پر غور شروع کردیا۔محکمہ خزانہ بلوچستان کے حکام کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز میں کٹوتیوں کے باعث صوبے میں مالی بحران پیدا ہوگیا ہے اور اسٹیٹ بینک میں حکومت بلوچستان کے سرکاری اکاؤنٹ میں کیش بیلنس نہ ہونے کے برابر رہ گیاہے۔

محکمہ خزانہ نے صورتحال کے پیش نظر بیشتر سرکاری محکموں کے اکاؤنٹس منجمد کردیئے جس کی وجہ سے محکموں کی جانب سے جاری کردہ سرکاری چیک باؤنس ہورہے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے تمام ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کا اجراء بھی روک دیا ہے جس کی وجہ سے صوبے بھر میں ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کو ڈھائی لاکھ سے زائد ملازمین اور پنشنرزکی تنخواہوں کی مد میں ماہانہ دس سے بارہ ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے مگر مالی بحران کے باعث صوبائی حکومت کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں ہے اس لئے جون کے مہینے کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں موجود رقم میں سے ملازمین کی تنخواہیں کی ادائیگی کی کوشش کی ہے مگر متعلقہ حکام نے رقم جاری کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

سیکریٹری خزانہ بلوچستان قمر مسعود نے تصدیق کی ہے کہ بلوچستان حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا توہے مگر تنخواہوں کی ادائیگی کی جارہی ہے ۔انہوں نے مالی مشکلات کی وجہ وفاق کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں رواں ماہ چھ ارب روپے کی کٹوتی کی گئی جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر اٹھارہ ارب روپے کم ملے ہیں ۔

محکمہ خزانہ کے ایک اور آفیسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ بلوچستان حکومت نے ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ ریاض بلوچ کو وفاق سے بات چیت کیلئے اسلام آباد بھیجا ہے تاکہ مالی بحران کا کوئی حل نکالا جائے۔