|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2018

کوئٹہ :  بی این پی کے لہجے میں تلخی ‘ مزاج میں سختی آئی ہے ہمارے قدم نہ پہلے کبھی ڈگمگائے اور نہ آگے ڈگمگائیں گے بلوچستان یتیم خانہ بن چکا ہے کوئی ایسا گھر نہیں جہاں آپ کو یتیم بچے ‘ بیوائیں ‘ بے سہارا باپ نہ ملے جن کے استحصال ‘ ظلم ‘ جبر ‘ ناانصافیوں کے نتیجے میں ڈاکٹر اللہ نذر پیدا ہواآج ایک بار پھر انہیں نوازنے کیلئے ڈیری فارم بنایا گیا ہے طاہر خان ہزارہ کے غیر مشروط طور پر دستبردار ہونے پر ان کے مشکور ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سرداراختر جان مینگل ‘ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے حلقہ این اے 265اور این اے 264سے آزاد امیدوار طاہر خان ہزارہ کے ملک عبدالولی کاکڑ اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے حق میں دستبردار ہونے کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ‘ ساجد ترین ایڈووکیٹ ‘ سید ناصر علی شاہ ہزارہ و دیگر رہنماؤں بھی موجود تھے سردار اختر جان مینگل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ اقوام کی کن کن مہربانیوں کا شکریہ ادا کروں آج لوگ اپنا بخار دینے کو تیار ہیں ۔

طاہر خان اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوں کہ انہوں نے غیر مشروط طور پر قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے ہمارے امیدواران کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا مشکلات ‘ ظلم و زیادتیاں کا ذکر ہزارہ قوم کے سامنے کر کے عجیب کیفیت محسوس کر رہا ہوں ہزارہ قوم کو ظلم و زیادتیوں کی وجہ سے چار دیواری میں قید کر دیا گیا ہے ہزارہ قوم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھکے نہیں ان کے حوصلے بلند ہیں ۔

یہ علمدار روڈ جہاں میں مخاطب ہوں یہاں بے گناہوں کا خون بہایا گیا ان کا ذمہ دا ر کون ہے کیا ان تمام مسائل کا ذمہ دار ہم قدرت کو قرار دیں دنیا میں سینکڑوں میں تعداد میں تب لاشیں اٹھائی جاتیں ہیں جوقدرتی آفت ‘ زلزلہ ‘ طوفان ‘ بونچھال آئے مگر بلوچستان بدبخت خطہ ہے جو حکومتی ظلم وزیادتیوں کا شکار ہے ۔حکومتوں کی نااہلی ‘ ظلم و زیادتیوں ‘ اپنے نمائندوں کی نااہلی و نالائقیوں کی وجہ سے آج یتیم خانہ بن چکا ہے۔

کوئی ایسا گھر نہیں جہاں آپ کو یتیم بچے نہ ملیں ‘ بیوائیں نہ ملیں ‘ کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں بے سہارا باپ نہ ملے ان مظالم کا ذمہ دار کون ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں ہم اپنے دوست دشمن میں فرق نہیں کر پائے ۔

بلوچستان کا ہر شخص ذمہ دار ہے جس کو یہ پتہ نہیں کہ وہ کس نمائندے کو ووٹ دے رہا ہے ہم صرف اور صرف رنگ و نسل ‘ مذہب ‘ قبائل ‘ قومیتوں کی بنیاد پر سب کچھ بھول جاتے ہیں کیا یہ وہ سرزمین نہیں جہاں سب کا خون اکٹھے بہا اس سرزمین کی کوک میں ہزارہ ‘ پشتون ‘ بلوچ ‘ پنجابی ‘ ہندو ‘ کرسچن بھی دفن ہیں جب ہمارا خون اکٹھا ہو سکتا ہے ۔

قبریں مٹی کے نیچے اکٹھی ہو سکتی ہیں تو ہم میں وہ کون سی بیماری ہے کہ ہم اپنے قومی حقوق ‘ وسائل کیلئے اکٹھے نہیں ہو سکتے ہم ایک دسترخوان پر بیٹھ سکتے ہیں ان کے چوکٹوں پر سر ٹیک سکتے ہیں جو ہمارے قتل و عام کے ذمہ دار ہیں کیا ہم پہلے اکٹھے نہیں تھے ۔

نیپ کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی تھی اس مجمے میں شریک طاہر خان ‘ آغا ناصر شاہ اس کے گواہ ہیں کوئی بتائے ہمیں کہ کبھی ایسا واقعہ ہوا تھا کہ ہزارہ ‘ پشتون ‘ بلوچ نے کسی کو ایک پتھر تک نہیں مارا ہو اس وقت ہم ایک قوم بلوچستانی تھے آج تقسیم ہو کر رہ گئے اس تقسیم کا فائدہ وہ قوتیں اٹھا رہی ہیں جو بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہی ہیں ہم آپس میں دست گریبان ہیں ‘خون خرابے کے حد تک پہنچ چکے ہیں ۔

ایک دوسرے کے خوشی و غم میں شریک تک نہیں ہوتے اس کا فائدہ ہماری آپ کی آنکھوں کے سامنے اٹھا کر وسائل لوٹے جا رہے ہیں بلوچ کا ہاتھ پشتون کے بالوں میں ‘ پشتون کا ہاتھ بلوچ کی داڑی میں بلوچ کا ہاتھ ہزارہ کے گریبان میں وہ جوان ٹرک لوڈ کر کے ہمارا مال لے جا رہا ہے جب تک ہم بلوچستان کے دائرے میں رہ کر نہیں سوچا ‘ ہمیں تقسیم کیا گیا ۔

اس تقسیم کا فائدہ ان قوتوں نے اٹھایا جو آج دن تک بلوچستان کی بدحالی کا ذمہ دار ہیں انہوں نے کہا کہ آج ہمارے بچے ایک وقت کی روٹی کیلئے محتاج ہے وہ خطہ جو دنیا کا امیر ترین خطہ ہے جس سے نام سے لوگ ارب پتی بن گئے جن کے گھروں کے سامنے گدھا نہیں تھا ۔

آج وہ اربوں کے مالک ‘ ہیلی کاپٹروں میں سفر کرتے ہیں اور ہم نان شبینہ کے محتاج ہیں کسی ہزارہ کا قتل ہوگا تو افواء ہو گی کہ اس کو بلوچ نے قتل کیا اور سریاب کی طرف گیا کسی بلوچ کا قتل ہو گا تو اسے پشتون نے مارا خروٹ آباد کی طرف گیا کہیں کسی اور کا قتل ہو گا اس کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جو الزام لگا رہا ہے مشترکہ جدوجہد سے ان کا پروپیگنڈہ دم توڑ جائے گا یہ بہانہ بھی ختم ہو جائے گا نہ الزام لگانے کی جرات ہوگی نہ وہ اس کی کوشش کریں گے ۔

بلوچستان کا جملہ حقوق کیلئے جب تک اکھٹے نہیں ہوں گے نا مسجد محفوظ ہوں گے نہ امام بارگاہیں ‘نہ مندر اور نہ گرجا گھر محفوظ ہوں گے اور یوں ہی لاشیں اٹھاتے رہیں گے یہ ہماری ذمہ داری ہے ان کا مقابلہ ہمیں اور آپ کو کرنا ہے ایسے نمائندے منتخب کرنے ہوں گے جن دل ‘ گردہ بھی ہو منہ میں زبان بھی رکھتے ہوں ایسے لوگوں کو نہ بھیجیں جو جعلی پرمٹ ‘ ایک وزارت کیلئے بک جاتے ہیں ۔

اس سے توقع نہ رکھیں کہ وہ آپ اس سرزمین پر ہونے والی خونی آلودگی کو روک سکیں گے اور نہ آنے والے خونی طوفان کا سامنا کر سکیں گے ایسے جماعتوں کو لائیں جن کا ماضی بے داغ ہوجنہوں نے نہتے ہاتھوں جمہوری انداز میں ان کا مقابلہ کیا ۔

2006ء میں جب نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت ہوئی یہاں قومی ‘ قوم پرست پارٹیاں تھیں لیکن اس ظلم و زیادتیوں کے خلاف اسمبلیوں میں بولنے کی اجازت ‘ دعائے مغفرت سے روک گیا تو ہم نے اسی میزان چوک پر حکومت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا یہ وہی بی این پی ہے جس کے لہجے میں تلخی آ ہو گی مزاج میں سختی آئی ہو گی ‘ جس کے قدم نہ پہلے کبھی ڈگمگائے اور آگے ڈگمگائیں گے ۔

اس موقع پر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طاہر خان اور ان کے ساتھیوں نے ایک شرط رکھی وہ قومی اجتماعی شرط ہے بلوچستان میں بسنے والے تمام اقوام کے مسائل مشترکہ ہیں پارلیمنٹ میں جائیں تو بلوچستان کے غیور لاکھوں کے عزت نفس ‘ جان مال ‘ وسائل پر اختیار اور وقار کے پارلیمنٹ کی جدوجہد کریں بی این پی کا منشور اور عقیدہ ہے کہ قیادت و کارکن اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کو جو مسائل درپیش ہیں ۔

بحرانوں کا سامنا ہے وہ صرف ایک قوم حل نہیں سکتی صوبے میں بسنے والے تمام اقوام ‘ طبقات ‘ مذاہب ‘ نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ مشترکہ جدوجہد کریں گے تو بلوچستان کے مسائل کم ہوتے جائیں گے ۔

طاہر خان نے ہماری نظریئے کی تائید کی جس طرح ہزارہ برادری کا قتل عام ہوا ہے بلوچوں کا بھی ہوا ہے صوبے کے مظلوم لوگوں پر آسمان اور پرندے بھی حیران کہ اس صوبے کے دہکتے میدانوں میں ‘ پانیوں میں بسنے والے لوگ ستر سال سے استحصال کے چکی میں پس رہے ہم ستر سالوں سے پر امن مزاحمت کرر ہے ہیں ۔

آج کا اجتماع اس کا ثبوت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جتنے مسائل کا سامنا ہمیں ہیں جتنے بحرانوں کا سامنا ہے علمدار روڈ پولیس لائن ‘ پولیس ٹریننگ سینٹر ‘ ژوب ‘ مکران میں لوگوں کا خون بہایا گیا ہمارے مسائل مشترکہ ہیں اور اس کیلئے جدوجہد مشترکہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس بات کو سمجھ لیں کہ طاہر ہزارہ نے جدوجہد ‘ جمہوری اقدار ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی کی حمایت کی ہے ہزارہ قوم نے گوادر و بلوچستان کے حقوق کے حصول میں اپنا حصہ ڈالا ہے میں سمجھتا ہوں کہ آج کا اجتماع تمام بلوچستانیوں کیلئے مشعل راہ ہے ہم مشترکہ جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کو قتل و غارت گری ‘ استحصال ‘ جبر سے نکلیں گے ۔

میں اس بات پر حیران ہوں کہ ہمارے پڑھے لکھے اور بااختیار طبقے نے ستر سالوں سے سبق نہیں سیکھا پتہ نہیں وہ تاریخ پڑھتے ہیں بھی کہ نہیں استحصال سے قومیں کمزور ہوتی ہیں قومیتوں کو حقوق نہ ملنے سے ریاست کمزور ہوتی ہے آج لٹیروں اورغاصبوں کو یکجا کر کے ڈیری فارم بنایا گیا ہے ۔

سابق وزیراعلیٰ اور بھینس پارٹی کا اہم کرتا دھرتا ہیں ان کا خاندان چھ مرتبہ آواران سے منتخب ہو آیااگر وہ آواران کی خدمت کرتے تو آج میںآواران میں استحصال ‘ ظلم ‘ جبر ‘ ناانصافی ہوتی نہ ڈاکٹر اللہ نذر پیدا ہوتا ‘ جن کے ظلم و جبر کے نتیجے میں ڈاکٹر اللہ نذر پیدا ہوا انہیں آج ایک بار نوازا جا رہا ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ قوتیں افراتفری میں خوش ہیں ‘ افراتفری کی بنیاد پر لوگوں کو نوازتیں ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں تمام سیاسی کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 25جولائی کو ایسے قوتوں کا احتساب کریں جو ملک میں افراتفری ‘ قتل و غارت گری ‘ ظلم و جبر نانصافیوں کا تسلسل چاہتے ہیں ۔

ان کا راستہ روکیں مشترکہ جدوجہد سے سی بحرانوں سے نقل سکتے ہیں میر وعدہ ہے کہ عوام کے معیار پر نہ اتر سکا تو وعدہ کرتا ہوں کہ استعفیٰ دینے میں ایک سیکنڈ بھی دیر نہیں کروں گا ۔