کوئٹہ : بلوچستان اکنامک فورم کے سربراہ ،کوئٹہ پریس کلب کے صدر،مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے صوبے میں دہائیوں پر محیط محرومی کی وجہ کرپشن کو قرار دیتے ہوئے صوبے میں صحت، تعلیم اور پینے کے لئے صاف پانی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اور قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے روزگار کے ذرائع فروغ دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو ناگزیر قراردیا ہے ساحل و وسائل پر اختیار حاصل کرکے ہی صوبے کے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار بلوچستان کنامک فورم کے سربراہ سردار شوکت پوپلزئی،کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاء الرحمان، پاکستان مسلم لیگ ن کے یونس بلوچ ، پاکستان تحریک انصاف کے قاسم خان سوری، بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا خالد دلسوز، بلوچستان عوامی پارٹی کے چوہدری شبیر، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ڈاکٹر ناشناس لہڑی، جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے قاری مہراللہ اور دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پاکستان نیشنل الیکشن ڈیبیٹ 2018کے عنوان سے پاکستان ڈائیلاگ فورم کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب اور پاکستان انسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزگار ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
نیشنل ڈائیلاگ فورم کے ارشد قائم خانی،عابد صابری، محمد اویس نے سیاسی جماعتوں سے ان کی سابقہ کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے گفتگو کی اورکرپشن کے خاتمے ، گورننس کی بہتری، ملک میں بہتر اور فوری انصاف کی فراہمی ، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے سمیت دیگر امور پر شرکاء سے ان کی رائے طلب کی اس موقع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ۔
بلوچستان اکنامک فورم کے سربراہ سردار شوکت پوپلزئی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی تیاری بلوچستان کے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل نہ کرنے سے این ایف سی ایوار ڈ سے صوبے کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا صوبے کی ترقی کے فیصلے اکنامکس کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے جائیں تو اس کا فائدہ عوام کو ہوگا کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاء الرحمان نے کہا کہ اربوں روپے کے منصوبے کے باوجود کوئٹہ شہر آئندہ چند سالوں بعد صحرا میں تبدیل ہونے جارہا ہے ۔
عصر حاضر میں اندرون بلوچستان میں انسانوں اور جانوروں کا ایک ہی جوہڑ سے پانی پینا لمحہ فکریہ ہے قدرتی معدنیات سے مالا مال خطے کے باسی زندگی کے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں لٹل پیرس کی سڑکوں پر قائم گندگی کے ڈھیر نکاسی آب کا خستہ حال نظام گلی محلوں کی خستہ سے کوئٹہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ۔
عام انتخابات میں عوام کو موقع ملا ہے کہ وہ اپنے روشن مستقبل کے لئے وہ احتساب اور انتخاب کے اس عمل سے گزرتے ہوئے بلا کسی تفریق اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں مسلم لیگ ن کے رہنماء یونس بلوچ نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں بلوچستان میں امن و امان کو یقینی بنایا صوبے میں تعلیم ، صحت کی ممکنہ سہولیات فراہم کی گئیں کوئٹہ شہر کے لئے 22ارب روپے کا پیکج دیا گیا ۔
ہمارے دور حکومت میں ہر ایم پی اے کو 35کروڑ روپے ترقیاتی مد میں دےئے گئے جبکہ پی ایس ڈی پی کے علاوہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی خطیر رقم فراہم کی گئیں اگر عوام نے موقع دیاتو اپنے دور حکومت میں شروع کئے گئے منصوبوں کو جلد مکمل کریں گے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت صوبے کی کرپٹ ترین حکومت تھی قوم پرست جماعت کے پاس کوئٹہ کے 2قومی اور 5صوبائی اسمبلی کے ممبران گورنر ،مےئر شپ اور مرکز میں اتحاد ہونے کے باوجود کوئٹہ میں کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کرسکیں جس کی وجہ سے آج لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔
تعلیمی ایمرجنسی سے تعلیمی نظام کو تباہ کیا گیا صحت کے حوالے سے اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے سانحہ 8اگست کے دوران وکلاء کی ایک بڑی تعداد دھماکے کے بجائے طبی امداد بروقت نہ ملنے کے باعث شہید ہوگئے اگر موقع ملاتو ناراض بلوچ رہنماؤں کو منا کر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے جدوجہد کریں گے ۔
خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھائیں گے کرپشن کے خاتمے کے لئے عدالتوں کے نظام کو مضبوط بنائیں گے امن و امان کیلئے پولیس کو سیاسی مداخلت سے نجات دلائیں گے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا خالد دلسوزنے کہا ہے کہ ہر سال اربوں روپے کے ترقیاتی ٹینڈر ہونے کے باوجود کوئٹہ کے دیہی علاقے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے خطر رقم امن وا مان پر خرچ ہونے کے باوجود آج بھی صوبے کے طول عرض میں لاشیں اٹھارہے ہیں ۔
حالیہ انتخابات میں عوام نے موقع دیا تو امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے برادر اقوام کے درمیان نسلی اور معصبانہ تفریق کا خاتمہ کریں گے بلوچستان عوامی پارٹی کے چوہدری شبیرنے کہا کہ ہم اپنے محرومی کے ذمہ دار خود ہے پچھلے 70سالوں سے بلوچستان پر حکمرانی کرنے والے باہر سے نہیں آئیں بلکہ ہم خود تھے ۔
بلوچستان کی محرومی کا رونا رونے والے اقتدار میں آکر اپنا رویہ اور سوچ تبدیل کرکے کرپشن میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے صوبے میں محرومیاں پیدا ہوتی ہیں انہوں کہا کہ حالیہ انتخابات میں اگر عوام نے موقع دیا تو وفاق سے بلوچستان کا جائز حق لے کررہیں گے ۔
کرپشن سے پاک گورنس کا نظام صوبے میں متعارف کرائیں گے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے کہا ہے کہ بی این پی عوامی نے اپنے دور اقتدار میں بلا تفریق صوبے کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا ہمارے ترقیاتی منصوبوں میں تعلیمی اداروں اور صحت کے نئے مراکز کا قیام اور امن وامان کی صورتحال میں بہتری لائیں آج بھی ہمارا منشور ہے کہ اقتدار میں آکر عوام کی بلا امتیاز خدمت کو جاری رکھیں گے ۔
جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے قاری مہراللہ نے کہا کہ ناقص طرز حکمرانی نے بلوچستان کو مسائلستان میں تبدیل کردیا ہے سیاسی جماعتیں بلوچستان میں حالات کی درستگی کے لئے سنجیدہ دیکھائی نہیں دے رہے پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی کے لئے آنیوالے 8ارب روپے میں سے 8روپے بھی خرچ نہیں کئے گئے ہیں ہم گرمی میں پانی جبکہ سردی میں گیس کے لئے احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں ہمیں عوام نے موقع دیا تو صوبے میں کرپشن کرنیوالوں کو احتساب کے کٹہرے میں لائیں گے ۔
بلوچستان میں احساس محرومی کی بنیاد ی وجہ کرپشن ہے، سیاسی ومذہبی جماعتیں
![]()
وقتِ اشاعت : July 5 – 2018