|

وقتِ اشاعت :   July 6 – 2018

کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی نے انکشاف کیا ہے کہ باپ پارٹی لانچ کرنے والوں نے ہی ان کے چھوٹے بھائی سراج رئیسانی کو ان کے خلاف انتخابات میں لاکھڑا کیاہیاور باپ پارٹی کی حمایت کرنے کے بدلے انتخابات سے دستبردار کرانے کی پیشکش بھی کی۔

بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 35 مستونگ سے نواب اسلم رئیسانی کو بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کے علاوہ نیشنل پارٹی کے سردار کمال خان بنگلزئی، تحریک انصاف کے ملک فیصل دہوار اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار رئیس غلام حیدر کا سامنا ہے۔

مستونگ میں اپنی انتخابی مہم کے دوران خصوصی انٹرویو میں نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ سراج رئیسانی کو باپ پارٹی بنانے والوں نے میریمد مقابل کھڑا کیا ہے اور مجھے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر باپ پارٹی کے ساتھ تعاون کروں تو سراج رئیسانی کو دستبردار کرادیں گے لیکن میں نے انکار کردیااور کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہم نیاپنے سیاسی اتحادیوں کو کمٹمنٹ دی ہے جس پر ہم قائم رہیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ اتحاد اس لئے کیا کہ ان کے ساتھ ہماری ایک سیاسی ہم آہنگی ہے،ہمارا ایک ہی جیسا سیاسی مقصد ہے جس کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہم مصروف ہیں۔چیف آف سراوان نے اپنے روایتی انداز میں بلوچستان عوامی پارٹی المعروف باپ پارٹی اور اس کے انتخابی نشان گائے پر تنقید اور طنز کے نشتر بھی برسائے۔ ان کا کہنا تھا کہ باپ پارٹی کی گائے بانجھ ہے۔یہ پارٹی چھ ماہ سے زیادہ نہیں چل پائے گی۔ 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پرکسی نے بڑا خوب کہا کہ پہلے باپ پیدا ہوتا ہے اور پھر بچے آتے ہیں لیکن بلوچستان میں پہلے بچے آئے اور پھر ‘باپ’۔عجیب بات ہے کہ بھارت میں گائے کوماتا مانا جاتا ہے اور بلوچستان میں آکر گائے ‘باپ ‘بن گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں فیڈریشن کی سیاست کرنیوالے اب کوئی باقی نہیں رہا۔ فیڈریشن کی بات کرنیوالے اب صرف باپ، ما ں ، انکل اور آنٹی والے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے ہمیشہ 23 مارچ 1940 کی قرارداد کے تحت صوبوں کوخود مختاری دینے کا مطالبہ کیا اور آج بھی اس پر قائم ہوں۔یہ قرارداد پاکستان کی تشکیل کی دستاویز ہے جو وفاقی اکائیوں کو خود مختاری کا حق دیتا ہے۔اس پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ انارکی ، عدم استحکام اور عسکریت پسندی کی صورت میں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ستر سالوں سے ایک جدوجہد چل رہی ہے حق حکمرانی کی جدوجہد بلوچستان کے لوگوں کی فکر اور سوچ میں ہے ، ہم کمزور صحیح لیکن بات کرنے اور سیاسی جدوجہد سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے خود نہیں نکلا۔ 

آصف زرداری اور صادق عمرانی نے بنیادی رکنیت منسوخ کی اس لیے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سے اختلافات اور دوریوں کی وجہ لاپتہ افراد ،گوادر پورٹ اور ریکوڈک جیسے مسائل تھے۔ 

لاپتہ افراد پر ہم نیصدر زرداری، وزیراعظم، اس وقت کےآرمی چیف، آئی ایس آئی ، ایم آئی کے سربراہان سے کئی ملاقاتیں کیں مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ اسی طرح ریکوڈک کے مسئلے پر میرا واضح مؤقف تھا کہ یہ بلوچوں کی ملکیت ہے اسے ہم ٹھیتیان کمپنی کو ایسے ہی لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پرویز مشرف کی جانب سے سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے ساتھ گوادر پورٹ کا معاہدہ منسوخ کرکے عقیل ڈھیڈی اور این ایل سی کو الاٹ کی گئی زمین واپس لی۔ہم چاہتے ہیں کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے متعلق فیصلوں میں پارلیمنٹ میں موجود بلوچستان کے نمائندوں کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ 

سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور نیشنل پارٹی سے اس بات پر ہی اختلاف تھا کہ انہوں نے گوادر کے سرمائی دار الحکومت کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہیں کیا۔ بلوچوں، پشتونوں اور دیگر لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کے وسائل اور علاقوں کے فیصلوں کا منفی رد عمل ہوگا۔